کرکٹ کا سیاہ ترین دن؟

عامر، آصف
Image caption محمدعامر اور آصف پر بکی کے کہنے پر نو بال پھینکنے کا الزام ہے

جب سے کچھ پاکستانی کھلاڑیوں کے خلاف سپاٹ اور میچ فکسنگ کے الزامات سامنے آئے ہیں، کہا جارہا ہے کہ یہ کرکٹ کی تاریخ کا سیاہ ترین دن ہے۔

سخت اور مثالی سزا کا مطالبہ ہر طرف ہے,کوئی پاکستان کو بین الاقوامی کرکٹ سے معطل کرنے کا مطالبہ کر رہا ہے تو کوئی چاہتا ہے کہ قصوروار کھلاڑیوں پر غداری کا مقدمہ چلایا جائے!

میڈیا کا کوریج ہو یا پاکستان میں سیاسی قیادت کا رد عمل یا پھر کرکٹ سے پیار کرنے والوں کا غصہ، جو کچھ گدھوں کے ساتھ مار پیٹ کرکے مسلسل ٹی وی پر اپنی ناراضگی کا اظہار کر رہے ہیں۔

ایسا لگتا ہے جیسے کوئی انہونی گھٹ گئی ہو، کچھ ایسا ہوگیا ہو جو یا تو پہلے کبھی ہوا نہیں یا جس کی کسی نے کبھی توقع نہیں کی تھی۔

پاکستانی کھلاڑی نوے کی دہائی سے میچ فکسنگ کے الزامات میں گھرے رہے ہیں، سن دو ہزار میں جنوبی افریقہ اور ہندوستان کے کچھ کھلاڑیوں کا رول بھی بے نقاب ہوا، اور دوسری ٹیموں کے کچھ کھلاڑیوں کے نام بھی وقتاً فوقتاً بوکیز سے روابط کے سلسلے میں لیے گئے ہیں۔

Image caption عامر اور آصف کا نام اس معاملے میں نمایاں رہا ہے

تفصیل اگر پڑھنا چاہیں تو پاکستان میں جسٹس قیوم، جنوبی افریقہ میں کنگس کمیشن اور ہندوستان میں مرکزی تفتیشی بیورو کی رپورٹوں کا ملاحظہ کر لیجیے، انٹرنیٹ پراس کی تفصیل بھری پڑی ہے۔

میچ فکسنگ کس نہج پر پہنچ گئی تھی اس کا اندازہ کنگس کمیشن کے سامنے جنوبی افریقہ کے سابق کپتان ہنسی کرونیے کے اس تحریری بیان سے ہوتا ہے۔

’آخری ایک روز میچ سے پہلے (ہندوستانی بوکی) ایم کے نے میچ ہارنے کے عوض دو لاکھ امریکی ڈالر کی پیش کش کی تھی۔میں نے اس بارے میں کچھ کھلاڑیوں سے صلاح مشورہ کیا اور انہیں بتایا کہ ہم ایک ٹیم میٹنگ میں کوئی حتمی فیصلہ کریں گے۔ میچ سے ایک روز پہلے ٹیم کی میٹنگ ہوئی جس میں تمام کھلاڑی موجود تھے۔ میں نے بوکی کی پیش کش ان کے سامنے رکھی جسے کھلاڑیوں نے مسترد کر دیا۔ طے یہ ہوا تھا کہ جو بھی فیصلہ ہوگا اتفاق رائے سے ہوگا۔ میٹنگ کے بعد کچھ کھلاڑی بس یہ جاننا چاہتے تھے کہ کیا ایم کے رقم میں اضافہ کرسکتا ہے۔۔۔رقم بڑھا کر ڈھائی لاکھ ڈالر کر دی گئی۔ لیکن میچ سے پہلے ایک اور میٹنگ ہوئی جس میں اس بات پر اتفاق ہوا کہ یہ پیش کش قبول نہیں کی جائے گی۔۔۔جب کوچ باب وولمر کو پتہ چلا تو وہ بہت ناراض ہوئے!‘

پوائنٹ یہ نہیں ہے کہ میچ فکنسگ چونکہ عرصہ دراز سے ہوتی رہی ہے، لہذا اسے نظر انداز کردینا چاہیے بلکہ یہ کہ جو کچھ ہوا ہے اسے اپنے معاشرے کےمجموعی تناظر میں بھی دیکھیں تو شاید رد عمل کو ’ٹون ڈاؤن‘ کرنا آسان ہو۔

اور جو لوگ قوم کا سر شرمندگی سے جھک جانے کی بات کر رہے ہیں، یا کرکٹرز پر عائد الزامات کو قوم کے وقار سے تعبیر کر رہے ہیں، ان سے یہ سوال ضرور پوچھا جانا چاہیے کہ گزشتہ پندرہ برسوں میں کھیل کو صاف کرنے کے لیے انہوں نے کیا اقدامات کیے ہیں؟

ہندوستان میں آئی پی ایل کو کتنے سنگین الزامات کا سامنا ہے لیکن آخری مرتبہ آپ نے یہ خبر کب دیکھی تھی؟

بنیادی بات یہ ہے کہ کرکٹرز بھی اسی معاشرے کا حصہ ہیں جس میں ہم اور آپ سانس لیتے ہیں، اور اسی کی برائیوں اور اچھائیوں سے اسی طرح متاثر ہوتے ہیں جیسے باقی لوگ۔ ان باقی لوگوں میں کون آتا ہے؟ ملک کے سیاست دان؟ سرکاری ملازمین؟ کھلاڑی؟

ایگزٹ کنٹرول لسٹ کتنی لمبی تھی؟ کتنے لوگوں کے خلاف مثالی کارروائی ہوئی؟ بر صغیر میں کتنے سرکردہ سیاست دانوں کے خلاف بدعنوانی کے مقدمے قائم ہیں؟ کتنوں کو مثالی سزا دی گئی ہے؟ اور فوجی افسران، ان کا کیا؟ انہوں نے تو لمبے عرصے تک ملک اور کرکٹ دونوں کی باگ ڈور سنبھالی ہے؟ ان کی کارستانیوں سے کیوں کسی کا سر شرم سے نہیں جھکتا؟ کرکٹرز کو بھی اسی پیمانے پر تولا جانا چاہیے۔

آخر کوئی تو وجہ ہوگی جو ٹرانسپیرنسی انٹرنیشنل کی تیار کردہ ایماندار ممالک کی فہرست (پرسیپشن انڈیکس) میں ہندوستان کا نمبر چوراسی اور پاکستان کا ایک سو انتالیسواں ہے؟

اور دنیا میں کتنے ٹیم سپورٹس ایسے ہیں جو مقبول ہوں، جن میں خوب پیسہ ہو اور جن کے بارے میں یہ کہا جاسکے کہ وہ پاک صاف ہیں؟ اٹلی کی مشہور ترین کلب فٹبال میں بدعنوانی کے سکینڈل کے بارے میں آپ نے پڑھا ہی ہوگا؟ صرف تین سال پرانی بات ہے۔ یا کبھی یہ بھی سوچا ہوگا کہ عالمی کپ یا یورپی چیمپئن شپ جیسے بڑے مقابلوں میں کواٹر فائنل میچ ایک ساتھ کیوں کھیلے جاتے ہیں؟

یا ممنوعہ دواؤں کے استعمال کی بات کریں تو کینڈا کے بین جانسن شاید آپکو یاد ہوں گے؟ فہرست کو لمبا کرنا چاہیں تو آندرے اگاسی، میرئن جونس، ڈوین چیمبرز اور سینکڑوں دوسرے سوپر سٹارز کے نام شامل کیے جاسکتے ہیں۔

سپورٹس کو پاک صاف رکھنے اور ڈوپنگ کا پتہ لگانے کے لیے نئے نئے ٹیسٹ استعمال کیے جاتے ہیں لیکن کھلاڑی کچھ ہی دنوں میں ان سے بچنے کا طریقہ نکال لیتے ہیں کیونکہ دونوں فریقوں کو ماہرین کی خدمات حاصل ہیں۔

ذاتی فعل کی بات کرنا چاہیں تو ٹائیگر وڈز کی مثال ابھی تازہ ہے۔ پاکستانی کرکٹرز کے بارے میں اپنا رد عمل ظاہر کرتے ہوئے آسٹریلوی کپتان رکی پانٹنگ نے کہا کہ ہمارے کلچر اور ان کے کلچر میں فرق ہے! معلوم نہیں کہ وہ کیا کہنا چاہ رہے تھے لیکن ’ہائی مورل گراؤنڈ’ اختیار کرنا خطرات سے خالی نہیں۔ شین وارن مارک وا نے بوکیز کو پچ اور موسم کی معلومات فراہم کرنے کے لیے پیسے لیے تھے! موسم کی معلومات؟

کچھ نوجوان پاکستانی کھلاڑیوں نے اگر وہ سب کیا جس کا ان پر الزام ہے تو بلاشبہہ غلط تھا لیکن انہیں شاید ماضی کے واقعات سے یہ تاثر ملا ہوگا کہ سب چلتا ہے، جو کھلاڑی پہلے اسی طرح کے الزامات کی زد میں آئے تھے، جب انہوں نے اپنے کرئیر پورے کیے تو ہم کیوں آسانی سے پیسہ کمانے کا موقع ضائع کریں؟

اور یہ بات بھی سچ ہے کہ ویڈیو کی ’شاک ویلیو’ بھی زیادہ ہوتی ہے لیکن اس سے جرم کی نوعیت نہیں بدل جاتی۔ لہذا اس پورے قضیہ کو مجموعی تناظر میں دیکھا جانا چاہیے۔ کھیل کی دنیا کے بھی اور معاشرے کے بھی۔ قصور ثابت ہو تو سزا سخت ہونی چاہیے لیکن ساتھ ہی یہ پیغام بھی جانا چاہیے کہ ایک چھکہ لگانے سے نہ قوم کا سر بلند ہوتا ہے اور نہ تین چار کھلاڑیوں کی بدعنوانی سے شرم سے جھکتا ہے۔

میرے لیے یہ کرکٹ کی تاریخ کا سیاہ ترین دن نہیں تھا۔ ایسا ماضی میں بہت بار ہوا ہے اور اگر یہ الزمات سچ ہیں کہ بات کھلاڑیوں سے آگے تک جاتی ہے، تو مستقبل میں بھی ہوتا رہے گا۔

اسی بارے میں