’مغوری اہلکاروں کی مشروط رہائی کی پیشکش‘

فائل فوٹو
Image caption ماؤنواز باغیوں کے حملے میں کئی پولیس اہلکار مارے جا چکے ہیں

بھارتی ریاست بہار میں ماؤنواز باغیوں نے دعویٰ کیا ہے کہ اتوار کو لکھی سرائے ضلع میں پولیس کے ساتھ ایک جھڑپ کے دوران انہوں نے چار پولیس اہلکاروں کو اغوا کر لیا تھا۔

پولیس یہ بات پہلے ہی تسلیم کر چکی ہے کہ جنگل میں ہونے والی اس جھڑپ میں ان کے سات اہلکار ہلاک ہوئے ہیں اور چار اب بھی لاپتہ ہیں۔

ریاست بہار کے ڈائریکٹر جنرل آف پولیس نیل منی کا کہنا ہے ’ کجرا پہاڑی علاقے میں جھڑپ کے مقام سے پولیس اہلکاروں کی سات لاشیں ملی ہیں۔‘

لکھی سرائے کے ایک سینئر پولیس اہلکار نے اس بات کی تصدیق کی ہے کہ چار پولیس اہل کار لا پتہ ہیں جن کا ابھی تک پتہ نہیں چل سکا ہے۔

بہار میں چند اضلاع کے ماؤنوازوں کے کمانڈر اوی ناش نے بی بی سی کو بتایا ہے کہ انہوں نے پولیس اہل کاروں کو اغوا کر لیا ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ’ اس علاقے میں ہمارے آٹھ ساتھی جیل میں قید ہیں جب تک انہیں رہا نہیں کیا جائے گا ان پولیس اہل کاروں کو بھی آزاد نہیں کیا جائے گا۔ اور اگر ماؤنوازوں کو رہا نہیں کیا گیا تو پھر ان پولیس اہل کاروں کو ہلاک کر دیا جائیگا۔‘

اوی ناش کا کہنا تھا کہ اس بارے میں پولیس انتظامیہ کو پہلے ہی سے اطلاع دی جا چکی ہے۔

اتوار کو پولیس اور ماؤنواز باغیوں کو درمیان کئی گھنٹے تک جھڑپیں ہوئی تھیں جس میں سات پولیس اہلکار ہلاک ہو گئے تھے۔

اسی بارے میں