ڈبّے والوں کی تربیت

ڈبّہ والے
Image caption ممبئی کے ڈبہ والے افراد کمپیوٹر کی تربیت لیتے ہوئے

بھارت کے صنعتی شہر ممبئی میں دفتروں میں دوپہر کا کھانا پہنچانے والے لوگ، جنہیں عرف عام میں ’ڈبے والا‘ کہا جاتا ہے، اپنے اس مخصوص کاروبار کے لیے اب انگریزی اور کمپیوٹر سیکھ رہے ہیں۔

’ڈبہ والے‘ شہر کے مضافاتی علاقے میں آباد تقریباً دو لاکھ گھروں سے ٹفن لے کر مختلف دفتروں اور فیکٹریوں میں دوپہر کا کھانا پہنچاتے ہیں۔

اس شہر میں تقریباً پچاس ہزار لوگ اس پیشے سے جڑے ہیں۔ یہ لوگ ممبئی کے تقریباً پونے دو لاکھ لوگوں کو دوپہر کا کھانا مہیا کرتے ہیں۔

یہ لوگ دوپہر کا کھانا پہنچانے کا کام برسوں سے کرتے آئے ہیں اور عام طور پر یہ لوگ درست منزل پر صحیح وقت پر ٹفن پہنچاتے ہیں۔ فوربز میگزین نے اس کے لیے انہیں ہ٪99۔99 کی ریٹنگ سے نوازا تھا۔

ڈبہ والوں کو برطانوی شہزادے پرنس چارلس کی شادی میں بھی دعوت دی گئی تھی۔

مہاراشٹر اوپن یونیورسٹی کے یشونت راؤ چوان نے ڈبے والوں کی مدد کے لیے ایک کورس ترتیب دیا ہے۔ جس کے تحت ہر اتوار کو تقریباً پچاس ہزار ڈبّہ والوں کو انگریزی سکھائی جائے گی۔

ڈبّہ والا ایسوسی ایشن کے صدر رگھو ناتھ میڈگے کا کہنا ہے کہ اس پیشے سے جڑے بیشتر افراد کم پڑے لکھے ہیں۔

ان کا کہنا تھا ’جو زیادہ پڑھے بھی ہیں وہ مراٹھی زبان میں پڑھے ہیں، اس سے نا صرف ہماری مدد ہوگی بلکہ ہمارے بچوں کی تعلیم میں بھی مدد گار ثابت ہوگی۔‘

ایک سینیئر ڈبہ والے گنگارام تالیکر کا کہنا ہے اس نئے کورس کا ہم خیر مقدم کرتے ہیں کیونکہ تکنیکی تبدیلیوں کے ساتھ مطابقت رکھنا پھر مشکل ہوگا۔

ان کا کہنا تھا ’ہمارے بہت سے کسٹمر موبائیل میسیج سے اپنا پتہ بھیجتے ہیں، اگر ہم اسے سمجھ یا پڑھ نہیں پاتے تو پھر دوسروں سے پوچھنا پڑتا ہے۔ کمپیوٹر اور انگریزی کی تعلیم سے ہمارا بہت وقت بچ جائیگا۔‘

ان کے لیے ممبئی میں جو کلاس روم ہے اس میں مختنف طرح کے پلے کارڈ ہیں۔ اس میں آداب اور اطوار کے لیے انگریزی میں جو الفاظ لکھے ہیں ان کا ترجمہ مراٹھی میں درج ہے۔

میگڈے کا کہنا ہے کہ وہ یہ بھی جاننا چاہتے ہیں کہ آخر ویب سائٹ پر ان کے بارے میں کیا لکھا ہے۔ ’ہمارے متعلق ویب سائٹوں پر بہت سے جانکاری ہے لیکن اس میں ہمارا تعاون کچھ بھی نہیں ہے۔‘