سرینگر سمیت چار شہروں میں کرفیو

فائل فوٹو، کشمیر میں پتھراو
Image caption گزشتہ تین ماہ کے دوران کشمیر میں ہلاک ہونے والے افراد کی تعداد چھیاسٹھ ہو گئی ہے

بھارت کے زیرانتظام کشمیر میں پیر کو چار افراد کی ہلاکت کے بعد وادی میں حالات کشیدہ ہیں اور دارالحکومت سرینگر سمیت چار علاقوں میں کرفیو لگا دیا گیا ہے۔

یہ چار افراد پیر کو سرینگر سے شمال میں واقع قصبے پٹن کے علاقے پل ہالن میں اس وقت ہلاک ہوئے تھے جب سکیورٹی فورسز نے پتھراؤ کرنے والے مظاہرین پر فائرنگ کر دی تھی۔

ان ہلاکتوں سے پورے کشمیر میں کشیدگی کی لہر پھیل گئی جبکہ پٹن قصبہ میں دن بھر احتجاج اور مظاہرے جاری رہے۔ حکومت نے مزید مظاہروں کو روکنے کے لیے دارالحکومت سرینگر سمیت حساس علاقوں میں کرفیو کا اعلان کیا ہے۔

بی بی سی اردو کے نامہ نگار ریاض مسرور کے مطابق پولیس ذرائع کا کہنا ہے کہ حال ہی میں تعینات کیے گئے نئے پولیس سربراہ شِیو موہن سہائے سوموار کو شمالی کشمیر کے دورے پر جا رہے تھے۔ جب ان کا قافلہ سرینگر اور سوپور کے درمیانی قصبہ پٹن میں پل ہالن پہنچا تو وہاں موجود بعض نوجوانوں نے قافلے پر پتھراؤ کیا۔

مقامی آبادی کے مطابق جب یہ قافلہ چلاگیا تو وہاں سپیشل ٹاسک فورس کے اہلکار آئے اور انہوں نے مظاہرین پر فائرنگ کی، جس سے سولہ سالہ شوکت احمد ملک اور دیگر چار افراد زخمی ہوگئے۔ شوکت نے مقامی ہستپال میں ہی دم توڑ دیا تاہم باقی زخمیوں کو سرینگر کے شیر کشمیر ہسپتال پہنچایا گیا جہاں نورالدین تانترے نامی شہری نے بھی زخموں کی تاب نہ لاتے ہوئے دم توڑ دیا۔

عینی شاہدین نے بی بی سی کو بتایا کہ ان ہلاکتوں کے خلاف پٹن میں شدید مظاہرے ہوئے اور وُسن گاؤں سے بڑا جلوس ہائی وے کی طرف بڑھنے لگا۔ اس جلوس کو روکنے کے لیے پولیس نے پھر فائرنگ کی جس میں محمد رمضان میر نامی شہری ہلاک اور کئٰی دیگر زخمی ہوگئے۔ زخمیوں کو ہستپال لے جاتے ہوئے مدثر احمد نامی نوجوان کی موت ہوگئی۔

سابق وزیر، حکمران جماعت کے سینئر لیڈر اور رکن اسمبلی ڈاکٹر مصطفیٰ کمال نے بی بی سی کو بتایا ’ابھی ہم کیا کہہ سکتے ہیں۔ ایک اطلاع ہے کہ ہجوم سے کسی نے گولی چلائی جس پر فورسز نے جوابی کاروائی کی۔ لیکن یہ افسوسناک واقع ہے‘۔

اِدھر سرکاری ترجمان کے ایک بیان کے مطابق پولیس سربراہ نے فوری کاروائی کرتے ہوئے ہلاکتوں کے وقت وہاں موجود تمام پولیس افسروں اور اہلکاروں کے ہتھیاروں اور ان کی تحویل میں گولیوں کے جائزہ کا حکم دیا ہے۔

واضح رہے تازہ ہلاکتوں کے بعد پچھلے تین ماہ سے جاری شورش کے دوران ہلاکتوں کی تعداد اب 69 ہوگئی ہے۔

علیٰحدگی پسند رہنما سید گیلانی نے پہلے سے جاری’ کیلنڈر‘ کے مطابق منگل اور بدھ کو ہڑتال کی اپیل کی ہے جبکہ جمعرات کو عید کی خریداری کے لیے ہڑتال میں وقفے کا اعلان کیا گیا ہے۔

اسی بارے میں