اڑنے کی تیاری

ونود
Image caption اگر ہمت ہے تو آپ کے عزم کے آگے سب ہیچ ہیں

ونود ٹھاکر سے اگر آپ ملیں تو اندازہ ہوتا ہے کہ جسمانی معذوری چاہے کیسی بھی ہو، انسان کے عزم کے سامنے نہیں ٹک پاتی۔

ان کی عمر انیس برس ہے۔ پیدائش سے ہی دونوں ٹانگیں نہیں ہیں لیکن اس کمی کو انہوں نے اپنے جنون کی راہ میں رکاوٹ نہیں بننے دیا۔

انہیں ’ہپ ہاپ‘ ڈانسنگ کا شوق ہے اور صرف اپنے ہاتھوں کا سہارا لے کر وہ جو کارنامے انجام دیتے ہیں ان سے بڑے بڑے ڈانسر احساس کمتری کا شکار ہوسکتے ہیں۔

ونود نے ایک رئیلٹی ٹی وی شو ’ انڈیا ہیز گاٹ ٹیلنٹ‘ میں اپنی بے پناہ صلاحیتوں کا مظاہرہ کیا تو تینوں ججوں نے کھڑے ہوکر ان کے ہنر اور ان کی بے پناہ ہمت کی داد دی۔ وہ کواٹر فائنل کے مرحلے میں مقابلے سے تو باہر ہوگئے ہیں لیکن ٹی وی چینل نے اب انہیں شوز کے لیے بیرون ملک بھیجنے کی پیش کش کی ہے۔

’میرے والدین نے کبھی خواب میں بھی نہیں سوچا تھا کہ میں اتنی شہرت حاصل کروں گا اور ان کا نام روشن کروں گا۔‘

رئیلٹی شو میں بھی واپسی کی امید ونود نے چھوڑی نہیں ہے۔

’مجھے چینل والوں نے بتایا ہے کہ میں وائلڈ کارڈ کے ذریعہ شو میں واپس آسکتا ہوں۔ میں ووٹنگ میں دوسرے نمبر پر تھا۔ کواٹر فائنل راؤنڈ پورا ہونے کے بعد ہی مجھے پتہ لگے گا کہ وائلڈ کارڈ ملتا ہے یا نہیں۔ پورے ملک میں میرے بہت سے مداح ہیں جو مجھے چاہتے ہیں کہ بہت آگے جاؤں۔‘

ونود دلی کی ایک کچی آبادی میں اپنے ماں باپ اور چار بھائی بہنوں کےساتھ رہتے ہیں۔ اچھل اچھل کر اس تیزی سے چلتے ہیں کہ ان کے ساتھ دوڑنا پڑتا ہے۔

والد ٹرک چلاتے ہیں اور خود ونود نے بارہویں تک پڑھائی کرنے کے بعد موبائل فون کی مرمت کا کورس کیا ہے۔ لیکن اب ان کی نگاہیں آسمان پر ہیں۔

Image caption ونود نے مشق سے رقص میں کافی مہارت حاصل کر لی ہے

’اب میرا دل فون کی مرمت میں نہیں لگتا۔ میں رقص کو ہی اپنا کیرئر بنانا چاہتا ہوں۔ دوکان پر جاتا ہوں تو بھیڑ جمع ہوجاتی ہے۔ سب کہتے ہیں کہ میں نے اپنے علاقے کا نام روشن کیا ہے۔‘

رئیلٹی ٹی وی شو میں آنے کا خیال کیسے آیا؟ ’میرے دوستوں کو لگتا تھا کہ میری ڈانسنگ میں کچھ بات ہے۔ انہوں نے ہی مجھے مجبور کیا کہ میں آڈیشن کے لیے جاؤں۔ میرا ڈانس دیکھ کر جج حیرت زدہ رہ گئے۔‘

اور ڈانسگ کا خیال کیسے آیا؟ ’میری ٹانگیں نہیں ہیں، جس کی وجہ سے مجھے لگتا تھا کہ میں دوسرے بچوں سے مختلف ہوں۔ بس میں یہ دکھانا چاہتا تھا کہ میں وہ سب کر سکتا ہوں جو دوسرے بچے کرتے ہیں۔ میں کرکٹ بھی اچھی کھیلتا ہوں۔ ڈانسنگ کی باریکیاں میں نے انٹرنیٹ اور ٹی وی سے دیکھ کر سیکھی ہیں۔‘

ونود کی ڈانسنگ کی ویڈیو یو ٹیوب پر بہت مقبول ہوگئی ہے اور کئی بین الاقوامی ٹی وی چینلوں نے ان کی حیرت انگیز کہانی نشر کی ہے ۔ ’نیشنل جیوگرافک والے بھی آئے تھے شوٹنگ کرنے مگر وہ کچھ عجیب سی زبان بول رہے تھے میری سمجھ میں بالکل نہیں آئی۔ میرے پاس کچھ پیسہ جمع ہوجائےگا تو میں ڈانسنگ کا سکول کھولوں گا۔‘

رئیلٹی شو میں جب ونود نے پبلک سے ووٹنگ کی اپیل کی تو انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ ان کی صلاحیت کو دیکھ کر ووٹ دیں ان کے جسم کو نہیں۔

’میرا خیال یہ تھا کہ لوگ اگر میری صلاحیت کو دیکھ کر ووٹ دیں گے تو میرے اندر اور بہتر پرفارمنس پیش کرنے اور محنت کرنے کا جذبہ آئے گا۔ میں کسی دوسرے فنکار سے پیچھے نہیں تھا۔ اپنے کوریوگرافر کو میں نے جو سٹنٹ بتائے وہ انہوں نے مجھے کرنے نہیں دیے کیونکہ انہں ڈر تھا کہ کہیں مجھے چوٹ نہ لگ جائے۔‘

ونود اب بیرون ملک جانے کی تیاری میں ہیں۔ ’میں پہلی مرتبہ ممبئی گیا تھا اور اب میں ملک سے باہر جاؤگا۔ لوگ مجھے انڈیا سے باہر بھی جان جائیں گے۔‘

اسی بارے میں