بھارت میں ذاتیں کتنی، شمار اگلے سال ہوگا

Image caption مردم شماری میں سرکاری اہلکارایک سال تک جنس، مذہب، پیشے اور تعلیم کے لحاظ سے بھارت کی تقریباً ایک اعشاریہ دو بلین آبادی کی تفصیلات جمع کریں گے

بھارت میں کابینہ کے ایک اعلان کے مطابق سنہ انیس سو اکتیس کے بعد پہلی مرتبہ سنہ دو ہزار گیارہ میں ملک کی ذاتیں جاننے کے لیے مردم شماری کی جائے گی۔

اعلان میں کہا گیا ہے کہ یہ مردم شماری اگلے برس جون کے مہینے میں ہوگی اور ستمبر تک جاری رہے گی۔خیال رہے کہ بھارت میں پہلے ہی سے آبادی کی تعداد جاننے کے لیے مردم شماری ہو رہی ہے جس میں ذات کے بارے میں جواب دینا شامل نہیں۔

ہندو مت میں ذات پات کی بہت اہمیت ہے لیکن قانون کے تحت کسی کے ساتھ اس بنیاد پر فرق کرنے کی اجازت نہیں۔

ذات کی بنیاد پر اس خصوصی سروے کے مخالفین کہتے ہیں کہ اس میں آسانی کے ساتھ دھوکہ دہی کی جا سکتی ہے۔

ذات پات کے مخالفین کے مطابق یہ نظام بھارتی معاشرے کو پیچھے دھکیلنے کا ایک حصہ ہے اور اس سے مدارج و مراتب کا سلسلہ چل نکلتا ہے۔ علاوہ ازیں ذات پات کی وجہ سے معاشرے میں نا انصافیاں پنپتی ہیں۔

گزشہ ماہ وزارء کے ایک گروپ نے اس خصوصی مردم شماری کی اجازت دی تھی لیکن اسے کابینہ کی توثیق کی ضرورت تھی جو اب ملی ہے۔

بھارت کے وزیرِ داخلہ پی چدم برم نے دہلی میں نامہ نگاروں سے بات کرتے ہوئے کہ اصل مردم شماری کے علاہ ایک علیحدہ سروے کرایا جائے گا جس میں ذاتوں کو شمار کیا جائے گا۔ یہ کام اگلے برس جون سے لیکر ستمبر تک جاری رہے گا۔

انھوں نہ یہ نہیں بتایا کہ اس علیحدہ سروے پر کتنی لاگت آئے گی تاہم پریس ٹرسٹ آف انڈیا کا دعویٰ ہے کہ اس پر چھ سو پچاس ملین ڈالر سے لیکر آٹھ سو پچاس ملین ڈالر تک خرچ ہو سکتے ہیں۔

بی بی سی کے نامہ نگاروں کا کہنا ہے کہ خود مختار بھارت میں مختلف نسل، مذہب اور سماجی گروپوں سے وابستہ افراد رہتے ہیں لیکن بھارت نے ہمیشہ دنیا کو ایک متحد چہرہ دکھانے کی کوشش کی ہے جہاں ذات پات کی بنیاد پر انسانوں میں تفریق کرنا قانوناً منع ہے۔

لیکن بھارت میں یہ نظام اب بھی جاری و ساری ہے اور خاص طور پر شادیوں میں ایسا واضح نظر آتا ہے۔

بھارت میں بنیادی مردم شماری کا آغاز اپریل میں ہوا تھا۔ لگ بھگ دو اعشاریہ پانچ ملین اہلکارایک سال تک جنس، مذہب، پیشے اور تعلیم کے حساب سے بھارت کی تقریباً ایک اعشاریہ دو بلین آبادی کی تفصیلات جمع کریں گے

اس حوالے سے ہر وہ شخص جس کی عمر پندرہ برس سے زیادہ ہوگی اس کی تصویر اور انگلیوں کے نشان بھی لیے جائیں گے تاکہ شناختی کارڈ کے اجراء کے لیے حکومت کے پاس ایک بائیومیٹرک قومی ڈیٹابیس ہو۔

اسی بارے میں