کشمیر: کرفیو میں مظاہرے، فائرنگ

بھارت کے زیرانتظام کشمیر میں مظاہرین نے کرفیو میں وزیرتعلیم پیرزادہ محمد سعید کے آبائی گھر پر دھاوا بول دیا۔ وزیر حملہ کے وقت گھر پر موجود تھے، تاہم ان کے محافظوں نے فائرنگ کی جس میں کئی نوجوان زخمی ہوگئے۔

کشمیر ’گو انڈیا گو سے‘ گونچ اٹھا: تصاویر

بی بی سی کے نامہ نگار ریاض مسرور نے بتایا کہ وادی کے مختلف علاقوں میں مظاہرین نے کرفیو کی خلاف ورزی کی اور پولیس کارروائی میں متعدد نوجوان زخمی ہوگئے۔

اس دوران سرینگر کے گاؤ کدل علاقہ میں بھی لوگوں نے کرفیو کی خلاف ورزی کی اور نیم فوجی دستوں نے سڑکوں پر مظاہرہ کرنے والے نوجوانوں پر آنسو گیس کے گولے پھینکے۔ ان کارروائیوں میں کئی نوجوان زخمی ہوگئے جن میں سے سمیر احمد بٹ کی حالات نازک ہے۔

مہاراجہ ہری سنگھ ہسپتال میں تعینات ڈاکٹروں کا کہنا ہے کہ سمیر بٹ کے سر میں شیل لگنے سے خون جم گیا ہے تاہم اس کا فوری طور پر آپریشن کیا گیا۔

جنوبی قصبہ ترال کے لیتہ پورہ گاؤں میں پتھر پھینکنے والے مظاہرین اور پولیس کے درمیان تصادم ہوا جس میں کئی اہلکار اور ایک پولیس افسر زخمی ہوگیا۔ عینی شاہدین کا کہنا ہے کہ مظاہرین نے فوجی گاڑیوں کے ایک قافلے پر بھی پتھر پھینکے اور فوج نے ہوا میں فائرنگ کی۔

شمالی قصبہ سوپور میں بھی نیم فوجی دستوں اور پولیس نے اُس وقت فائرنگ کی جب مظاہرین نے پولیس تھانہ پر حملہ کیا۔ فائرنگ میں چار نوجوان زخمی ہوگئے۔ بارہمولہ کے ’دے لی نا‘ گاؤں میں بھی لوگوں نے بعض نوجوانوں کی گرفتاری کے خلاف کرفیو کے باوجود سڑکوں پر آکر مظاہرے کئے۔

اِدھر عید کے روز شہر میں تشدد کے لئے میرواعظ عمرفاروق کو ذمہ دار ٹھہراتے ہوئے پولیس نے ان کے خلاف آتشزنی اور کشیدگی پھیلانے کے مقدمات درج کر لئے ہیں۔ سید علی گیلانی نے،جنہیں عید کے روز دوپہر کو رہا کیا گیا تھا، میرواعظ کے خلاف پولیس الزامات کی مذمت کی ہے اور کہا ہے کہ سرکاری عمارت میں آگ سرکاری بندوق برداروں نے لگائی تھی۔

پولیس نے گیلانی کے قریبی ساتھی اور روپوش علیٰحدگی پسند رہنما مسرت عالم اور ان کے ساتھیوں کے خلاف بھی کیس درج کیا ہے۔ ان پر الزم ہے کہ انہوں نے عید کے روز حضرت بل کی تاریخی زیارت گاہ میں پولیس پوسٹ کو آگ لگانے کی منصوبہ بندی کی تھی۔

واضح رہے عید کے روز میرواعظ عمر کی ریلی کے دوران تشدد بھڑک اُٹھنے کے بعد سرینگر اور دیگر حساس قصبوں میں کرفیو نافذ کیا گیا تھا۔ کرفیو کے دوران ذرائع ابلاغ کے نمائندوں کو بھی ہراساں کیا گیا۔ ایک مقامی خبررساں ایجنسی کے نمائندے شیخ عمران بشیر کو نیم فوجی دستوں نے زد و کوب کیا جو اب ہسپتال میں زیرعلاج ہے۔

کرفیو کی وجہ سے پوری وادی میں عید کا روایتی جوش و خروش نہیں تھا، اور لوگ تعزیت اور مزاج پرسی کے لئے رشتہ داروں کے یہاں نہیں جاسکے۔

اسی بارے میں