کشمیر:وفد سب سے ملنے کا خواہاں

سونیا گاندھی
Image caption وفد کی روانگی سے قبل حکمت عملی پر بات چیت ہورہی ہے

کشمیر کی صورتحال کا جائزہ لینے کے لیے ایک کُل جماعتی وفد کی روانگی سے قبل کانگریس جماعت کی سربراہ سونیا گاندھی نے پارٹی کی اعلیٰ قیادت سے مستقبل کے لائحہ عمل پر صلاح مشورہ کیا ہے۔

اطلاعات کے مطابق یہ وفد پیر کو کشمیر کے لیے روانہ ہوگا۔

کانگریس صدر کی رہائش گاہ پر ہونے والی اس میٹنگ میں کشمیری رہنما سیف الدین سوز، غلام نبی آزاد، وزیر داخلہ پی چدامبرم، وزیر دفاع اے کے انٹونی اور وزیر خزانہ پرنب مکھرجی نے شرکت کی ہے۔

اس اجلاس میں اس بات پر غور کیا گیا کہ اس بات کو کیسے یقینی بنایا جائے کہ وفد میں شامل لوگ ہند نواز سیاسی جماعتوں کے علاوہ مختلف گروپوں سے مل سکیں۔ اطلاعات کے مطابق وفد میں شامل افراد کو یہ خدشہ ہے کہیں کشمیر جا کر وہ نیشنل کانفرنس یا پی ڈی پی کے رہنماؤں سے مل کر ہی واپس نہ آجائیں جن سے وہ اکثر دلی میں ملاقاتیں کرتے رہتے ہیں۔

شورش زدہ وادی میں گزشتہ تین ماہ سے جاری پر تشدد مظاہروں میں نوے سے زیادہ افراد کی ہلاکت کے بعد صورتحال پر غور کے لیے دلی میں اسی ہفتے ایک کُل جماعتی اجلاس طلب کیا گیا تھا۔

اس اجلاس میں اگرچہ کوئی ٹھوس پیش رفت تو نہیں ہوسکی تھی لیکن اس بات پر اتفاق ہوا تھا کہ وزیر داخلہ کی قیادت میں ایک کُل جماعتی وفد ریاست کا دورہ کرے اور مختلف مکتب فکر سے تعلق رکھنے والے لوگوں سے بات چیت کے بعد وفاقی حکومت کو اپنی رپورٹ پیش کرے۔

یہ وفد پیر سے اپنا دو روزہ دورہ شروع کرے گا اور ایک دن سری نگر اور ایک دن جموں میں گزارے گا۔

کُل جماعتی کانفرنس سے سونیا گاندھی نے اپنے خطاب میں کہا تھا کہ کشمیریوں کے غصے کو سمجھنے کی ضرورت ہے۔ اسی پس منظر میں وفاقی وزیر اور نیشنل کانفرنس کے سربراہ فاروق عبداللہ نے بھی کل کانگریس صدر سے ملاقات کی تھی۔

کُل جماعتی وفد میں اٹھائیس جماعتوں کو نمائندگی حاصل ہوگی لیکن وفد کی آمد سے پہلے ہی اس کی افادیت پر سوال اٹھائے جارہے ہیں۔ اگرچہ فاروق عبداللہ نے کل جماعتی کانفرنس کے بعد کہا تھا کہ مجوزہ وفد علیحدگی پسند رہنماؤں سے بھی ملاقات کرے گا لیکن ریاست کی علیحدگی پسند قیادت کی جانب سے ابھی اس بارے میں کوئی واضح بیان سامنے نہیں آیا ہے۔

وادی میں حریت کانفرنس کے سخت گیر دھڑے کے رہنما سید علی شاہ گیلانی نے گیارہ روزہ ہڑتال کا نظام الاوقات جاری کیا ہے اور اکیس ستمبر کو، جب وفد وادی میں ہوگا، مسٹر گیلانی نے عوام سے اپیل کی ہے کہ وہ چھوٹے چھوٹے گروپوں میں فوج کی چوکیوں اور کیمپوں پر جاکر انہیں یہ میمورینڈم دیں کہ وہ عوام کے خلاف طاقت کا استعمال نہ کرے۔

اسی بارے میں