کشمیر:کرفیو جاری،مزید تین ہلاک

کشمیر /فائل فوٹو
Image caption سخت ترین کرفیو میں لوگ محصور ہو کر رہ گغے ہیں

بھارت کے زیرِانتظام وادی کشمیر میں سخت ترین کرفیو کا سلسلہ ساتویں دن میں داخل ہوگیا ہے اور سنیچر کو جہاں مزید ایک نوجوان سکیورٹی فورسز کی فائرنگ سے ہلاک ہوا ہے وہیں فوج کی فائرنگ سے زخمی ہونے والے دو افراد بھی زخموں کی تاب نہ لا کر چل بسے ہیں۔

قانون نافذ کرنے والے اداروں کی جانب سے عام شہریوں پر فائرنگ کا تازہ واقعہ جنوبی قصبے اننت ناگ میں اس وقت پیش آیا جب سنیچر کی صبح پولیس نے راجو ناتھ نامی ایک نوجوان کے جنازے کے جلوس پر فائرنگ کی جس میں نورالامین ڈگہ نامی نوجوان ہلاک جبکہ ایک خاتون سمیت پانچ افراد زخمی ہوگئے۔

راجوناتھ ان افراد میں شامل تھا جو چند روز قبل اننت ناگ میں مظاہرین کے خلاف پولیس کاروائی کے دوران دریائے جہلم میں کودے تھے۔

اننت ناگ کے لوگوں کا کہنا ہے کہ جہلم میں تیرنے کے دوران فورسز اہلکاروں نے راجو پر پتھراؤ کیا جس کی وجہ سے وہ بے ہوش ہوگیا۔ لواحقین نے بتایا کہ لاش کی گردن اور کندھے پر زخم اور خون جم جانے کے نشان تھے۔

عینی شاہدین کے مطابق جب معروف احمد ناتھ عرف راجو کی لاش سنیچر کی صبح بجبہاڑہ کے گُرپورہ گاؤں میں جہلم کے کنارے پائی گئی تو علاقہ میں کہرام مچ گیا اور کرفیو کے باوجود سینکڑوں افراد اس کے جنازے میں شریک ہونے کے لیے جمع ہوگئے۔

اننت ناگ کے رہائشی طارق احمد گنائی نے بی بی سی اردو کے نامہ نگار ریاض مسرور کو بتایا کہ ’جب جلوس بس اڈے کے قریب پہنچا تو پولیس اور سی آر پی ایف نے فائرنگ کی جس میں نورالامین ہلاک اور ایک خاتون سمیت دیگر چار لوگ زخمی ہوگئے‘۔

پولیس ترجمان نے اس واقعہ سے متعلق ایک بیان میں کہا ہے کہ سنیچر کی صبح کرفیو میں نرمی کی گئی تو مشتعل نوجوانوں کے ایک ہجوم نے مقامی سیاستدان کے گھر پر حملہ کیا اور مکینوں کو ہراساں کرنے کی کوشش کی۔ترجمان کا کہنا ہے کہ پولیس نے مداخلت کی تو ہجوم نے پولیس اہلکاروں سے ہتھیار چھیننے کی کوشش کی جس کے جواب میں پولیس نے فائرنگ کر دی اور ایک نوجوان ہلاک ہوگیا ۔

Image caption کشمیر کے لوگ آزادی کے مہم چلا رہے ہیں

اس واقعہ کے بعد قصبہ میں حالات کشیدہ ہوگئے اور پولیس و نیم فوجی دستوں کے ساتھ ساتھ فوج نے بھی گشت شروع کردیا ہے۔

اِدھر پچھلے دنوں سکیورٹی فورسز کی کارروائی میں زخمی ہونے والے سرینگر کے فیاض احمد نائیکو نے سنیچر کی صبح ہسپتال میں دم توڑ دیا جبکہ جمعہ کو علیٰحدگی پسندرہنما یٰسین ملک کے رشتہ دار یاسر شیخ بھی زخموں کی تاب نہ لا کر چل بسے۔

یاسر کو فورسز نے لال چوک کے قریب آنسو گیس شیل کا نشانہ بنایا تھا اور وہ کئی روز تک ہسپتال میں زیرِ علاج رہے۔ جمعہ کو ہی پٹن، ٹنگمر اور شوپیاں میں فورسز کی فائرنگ کے تین الگ الگ واقعات میں تین افراد مارے گئے تھے۔

عید کے بعد فورسز نے مظاہروں کو دبانے کی جو نئی حکمت عملی شروع کی ہے اس میں پچھلے چھ روز کے دوران اب تک دو درجن افراد ہلاک ہوئے ہیں جبکہ جون سے جاری شورش میں ہلاکتوں کی تعداد ایک سو ایک ہوگئی ہے۔

اسی بارے میں