کرفیو جاری، بھارتی وفد کیخلاف مظاہرے

بھارتی وفد
Image caption سرینگر میں بھارتی وفد کی میٹنگ

بھارت کے زیر انتظام وادی کشمیر کی صورتحال کا جائزہ لینے آئے بھارتی پارلیمانی وفد کو منگل کی صبح سرینگر کے مہاراجہ ہری سنگھ ہسپتال کے باہر مظاہرین کی مزاحمت کا سامنا کرنا پڑا۔

وفد نے شمالی قصبہ ٹنگمرگ کا بھی دورہ کیا جہاں پچھلے دنوں توہین قران کے خلاف مظاہروں کے دوران ایک سکول نذرآتش کیا گیا تھا۔

ایک مقامی ہندنواز سیاستدان نے بعض شہریوں اور وفد کے درمیان ملاقات کا اہتمام کیا تھا۔ اس دوران پوری وادی میں پچھلے دس روز سے جاری کرفیو کو مزید سخت کردیا گیا ہے۔

بی جے پی رہنما سشما سوراج اور کیمونسٹ رہنما سیتارام یچوری کی مشترکہ قیادت میں جب اراکین پارلیمنٹ کا وفد سرینگر کے مہاراجہ ہری سنگھ ہسپتال پہنچا تو وہاں تیمارداروں اور قدرے بہتر مریضوں نے آزادی کے حق میں نعرے بازی کی۔

مظاہرین نے '' گو انڈیا گو بیک '' کے نعرے بلند کیے جس کے سبب پولیس نے ہسپتال کے دروازے بند کردیے اور چند افراد کو مارا پیٹا۔ پولیس نے تصدیق کی ہے کہ اس کاروائی میں دو نوجوان زخمی ہوگئے ہیں۔

ایک سرکاری عہدیدار نے بتایا کہ وفد مزید دو ہسپتالوں کا دورہ نہیں کرسکا کیونکہ وہاں بھی مظاہروں کا خدشہ تھا۔ مہاراجہ ہری سنگھ ہسپتال کے نگران ڈاکٹر وسیم قریشی نے بی بی سی کو بتایا: '' وفد نے وارڈ نمبر دس کا دورہ کیا جہاں ایسے دس زخمی زیرعلاج ہیں جنہیں پولیس کاروائیوں میں گولیاں لگی ہیں۔''

ہسپتال کے ڈاکٹر نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایا کہ مریضوں نے وفد کی طرف سے مالی معاونت کی پیشکش پر کہا : '' ہم کو آزادی دے دو ، مہربانی کرکے ہمیں آزادی دے دو۔''

Image caption جب وفد ہسپتال پہنچا تو تیمارداروں نے بھارت کے خلاف مظاہرہ کیا

جب پارلیمانی وفد مریضوں کی عیادت کررہا تھا تو ہسپتال کے باہر تیماردار مظاہرے کررہے تھے۔ اس دوران پولیس اور نیم فوجی دستوں نے صحافیوں کو بھی اندر جانے نہیں دیا۔

اُدھر ٹنگمرگ میں مقامی لوگوں نے وفد کو بتایاکہ '' اگر بھارت کشمیر کو اٹوٹ انگ سمجھتا ہے، تو کشمیر کو جلتا دیکھ کر بھارتی حکمران آرام سے کیسے رہ سکتے ہیں۔'' وفد نے سرینگر کی مرکزی خانقاہ، آثار شریف حضرت بل میں بھی حاضری دی۔

واضح رہے کہ بھارتی وزیرداخلہ پی چدامبرم کی قیادت میں قریب چالیس اراکین پارلیمان کا یہ وفد پیر کےروز وادی کے دورے پر آیا تھا۔ اس دوران بھارتی رہنماؤں نے سید علی گیلانی سمیت سرکردہ علیٰحدگی پسند رہنماؤں کے ساتھ ان کے گھر پر ملاقات کی ہے۔

ذرائع کا کہنا ہے بی جے پی نے علیٰحدگی پسندوں کے ساتھ ملاقات کے فیصلہ پر ناراضگی کا اظہار کیا ہے تاہم بائیں بازو کی جماعتوں نے سرینگر میں اعلان کیا کہ یہ فیصلہ وفد میں شامل سبھی ممبران کے اتفاق رائے کے بعد ہی کیا گیا تھا۔

دریں اثنا آج دسویں روز بھی پوری وادی میں سخت ترین کرفیو نافذ ہے، اور لوگوں کو زبردست مشکلات کا سامناہے۔ قابل ذکر ہے کہ جون سے جاری '' بھارت چھوڑو تحریک'' میں پولیس اور نیم فوجی دستوں کی فائرنگ سے ایک سو آٹھ افراد ہلاک اور سینکڑوں دیگر زخمی ہوگئے ہیں۔

اسی بارے میں