’مطالبات تسلیم ہونے تک احتجاج جاری رہے گا‘

Image caption گزشتہ تین ماہ کے دوران کشمیر میں ایک سو سے زائد افراد ہلاک ہوئے ہیں

علیحدگی پسند رہنما سید علی شاہ گیلانی نے کہا ہے کہ بھارت کے زیر انتظام کشمیر میں اس وقت تک احتجاج جاری رہے گا جب تک ان کے مطالبات نہیں مانے جاتے ہیں۔

سید علی شاہ گیلانی شاہ نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے کہ وہ چاہتے ہیں کہ بھارتی سکیورٹی فورسز کو خطے سے نکل جانا چاہیے اور ایمرجنسی قوانین کو منسوخ کیا جائے۔

واضح رہے کہ بھارتی پارلیمنٹ کےچالیس اراکین کا وفد غیر معمولی کرفیو اور سخت ترین سکیورٹی پابندیوں کی موجودگی میں علیحدگی پسند رہنماؤں سے غیر رسمی ملاقاتیں کر رہا ہے۔

بھارت کے پارلیمانی وفد کی قیادت بھارتی وزیرداخلہ پی کے چدامبرم کر رہے ہیں۔ پارلیمانی وفد نے کشمیر کی ہند نواز جماعتوں ، نیشنل کانگریس اور پیپلز ڈیموکریٹ پارٹی کے رہنماؤں نے ملاقاتیں کی ہیں۔

علیحدگی پسند رہنما سید علی گیلانی نے پہلے ملنے سے انکار کر دیا تھا لیکن جب وفدان کے دروازے پر پہنچا تو انہوں نے غیر رسمی طور پر وفد میں شامل کچھ رہنماؤں سے ملاقات کی۔

پانچ رہنماوں سے ملاقات کے بعد سید علی شاہ گیلانی نے بتایا کہ احتجاج پرامن ہے اور اس وقت تک جاری رہے گا جب تک ان کے مطالبات نہیں مانے جاتے ہیں۔

انھوں نے کہا کہ وہ چاہتے ہیں کہ بھارتی حکومت کشمیر کو متنازعہ قرار دے، خطے سے فوج کو نکالا جائے، سکیورٹی فورسز کو حاصل خصوصی اختیارات کو منسوخ کیا جائے اور سیاسی قیدیوں کو رہا کیا جائے۔

پیر کو بھارتی وفد کے کچھ اراکین نے حریت کانفرنس کے دوسرے دھڑے کے سربراہ میر واعظ عمر فاروق سے ان کے گھر پر ملاقات کی۔ ملاقات کے دوران میر واعظ نے اپنے بازو پر ایک سیاہ احتجاجی پٹی باندھی ہوئی تھی۔

وفد کی آمد کے فوراً بعد شمالی قصبہ سوپور میں مظاہرے ہوئے۔ پولیس اور نیم فوجی دستوں نے مظاہرین پر فائرنگ کی جس سے پانچ افراد زخمی ہوگئے۔

علیحدگی پسند کشمیری رہنماؤں سید علی گیلانی، میر واعظ عمر فاروق اور یٰسین ملک نے پہلے بھارتی پارلیمانی وفد سے ملاقات سے انکار کر دیا تھا۔

میر واعظ عمرفاروق اور یٰسین ملک نے پانچ صفحات پر مشتمل یاداشت وفد کو پیش کی۔ میر واعظ عمرفاروق کو اتوار کی شب ملاقات کی دعوت دی گئی تھی تاہم انہیں پیر کی صبح اپنے ہی گھر میں نظر بند کر دیا گیا۔

پیر کو میر واعظ عمر فاروق نے پولیس کے کڑے پہرے میں گھر کے باہر ذرائع ابلاغ سے بات کرتے ہوئے پارلیمانی وفد سے ملاقات کی دعوت کو ایک مذاق قرار دیا۔ ان کا کہنا تھا ’ایک طرف تو ہمیں دعوت نامہ ملا اور دوسری طرف پولیس کا حکم کہ ہم گھر سے باہر نہیں جاسکتے، یہ ایک مذاق نہیں تو اور کیا ہے؟

تاہم جو یادداشت میرواعظ اور یٰسین ملک نے وفد کو ارسال کی ہے اس میں بھارتی حکومت کو مشورہ دیا گیا ہے کہ ’وہ سرکردہ شہریوں کی ایک کشمیر کمیٹی قائم کر کے کشمیریوں اور پاکستان کے ساتھ مذاکرات شروع کرے تاکہ پاکستان، کشمیر اور بھارت کے درمیان ایک پائیدار حل کی بابت اتفاق رائے پیدا کیا جائے۔‘

حزب اختلاف کے رہنماؤں نے وفد کو بتایا کہ کرفیو کی وجہ سے کشمیر کےحالات جاننے کی یہ کوشش ضائع ہوگئی ہے جبکہ حکمران نیشنل کانفرنس نے جموں کشمیر کو آئینی خودمختاری دینے کا مطالبہ دوہرایا۔

دریں اثنا سخت ترین کرفیو اور بستیوں کی ناکہ بندی کے سبب وادی کے کسی بھی حصے میں مظاہروں یا سنگ بازی کا کوئی بھی واقعہ پیش نہیں آیا۔

اتوار کے روز پولیس کی فائرنگ ہونے والے زخمی ہونے والے افراد چار افراد ہسپتال میں چل بسے تھے۔ اتوار کی شب شمالی سوپور قصبہ کی شاہراہ پر واقع نتھی پورہ بستی کے لوگ کرفیو کی سختیوں کے خلاف احتجاج کر رہے تھے کہ نیم فوجی دستوں نے ان پر براہ راست فائرنگ کی، جس میں پچیس سالہ خاتون اپنے ہی گھر کے صحن میں گولی لگنے سے ہلاک ہوگئی۔ اس طرح گیارہ جون سے جاری ’بھارت چھوڑو تحریک‘ کے خلاف پولیس اور نیم فوجی دستوں کی کارروائی میں اب تک ایک سو آٹھ افراد مارے گئے ہیں۔

اسی بارے میں