بابری مسجد، فیصلہ موخر کرنےکی اپیل

بابری مسجد کی فائل فوٹو
Image caption بابری مسجد کو 1992 میں منہدم کیا گیا تھا

بھارت کی سپریم کورٹ نے بابری مسجد اور رام جنم بھومی تنازعہ پر الہ آباد ہائی کورٹ کے متوقع فیصلے کو موخر کرانے کی جو اپیل تھی اسے عدالت کی دوسری بینچ کے سپرد کرنے کی بات کہی ہے۔

سپریم کورٹ کے جج کا کہنا تھا کہ چونکہ یہ ایک دیوانی مقدمہ ہے اس لیے اسے دوسری بینچ کے سامنے لسٹ کرنا ہوگا۔

بابری مسجد تنازعہ پر ریاست اترپردیش کی ہائی کورٹ کی لکھنو بینچ چوبیس ستمبر کو اپنا فیصلہ سنانے والی ہے۔

لیکن اس متوقع فیصلے کو موخر کرنے کی اپیل رمیش چندر ترپاٹھی نے دائر کی ہے۔ انہوں نے سپریم کورٹ سے اپیل کی ہے کہ فرقہ وارانہ کشیدگی کے خدشے اور کامن ویلتھ کھیلوں کے پیش نظر فیصلے کو موخر کردیا جائے۔

اس سے پہلے مسٹر ترپاٹھی نے ہائی کورٹ میں درخواست دی تھی لیکن عدالت نے ناصرف ان کی اپیل خارج کی تھی بلکہ ان پر پچاس ہزار کا جرمانہ بھی عائد کیا تھا۔

ہائی کورٹ کا کہنا تھا کہ مقدمے کے چاروں فریقین جب بات چیت یا کسی معاہدے کے لیے تیار نہیں ہیں تو فیصلے کو منسوخ کرنا صحیح نہیں ہے۔

عدالت کا یہ بھی کہنا ہے کہ ایک بار فیصلے کی تاریخ طے ہونے کے بعد اسے منسوخ نہیں کیا جا سکتا ہے۔

ہائی کورٹ کے اس فیصلے کے بعد ہی عرضی گزار نے سپریم کورٹ میں اپیل دائر کی تھی جس پر جج نے اسے دوسری بینچ کے سپرد کرنے کی بات کہی ہے۔

بابری مسجد چھ دسمبر انیس سو بانوے کو مسمار کر دی گئی تھی۔ مسجد کی مسماری کے بعد ملک میں مذہبی فسادات پھوٹ پڑے تھے جس میں سینکڑوں لوگ مارے گئے تھے۔

ہندو شدت پسندوں کا دعویٰ ہے کہ یہ ان کے بھگوان رام کی جائے پیدائش ہے اور سولہویں صدی میں یہ مسجد ایک مندر توڑنے کے بعد تعمیرکی گئی تھی۔

اس معاملے کے ایک وکیل ظفریاب جیلانی کے مطابق عدالت اس بارے میں بھی اپنی رائے دے سکتی ہے کہ آیا مسجد کے مقام پر پہلے مندر ہونے کے کوئی دستاویزی شواہد موجود ہیں یا نہیں۔

دونوں فریق پہلے ہی یہ اعلان کر چکے ہیں کہ اگر فیصلہ ان کے خلاف جاتا ہے تو وہ سپریم کورٹ سے رجوع کریں گے۔

اسی ہفتے وزیر اعظم منموہن سنگھ نے کہا تھا کہ بابری مسجد پر عدالت کا فیصلہ ان چند اہم ترین معاملات میں شامل ہے جو ہندوستان کے مستقبل پر اثر انداز ہوسکتے ہیں۔

اسی بارے میں