آخری وقت اشاعت:  جمعرات 23 ستمبر 2010 ,‭ 21:13 GMT 02:13 PST

’کھیل عالمی معیار کے عین مطابق ہوں گے‘

اس مواد کو دیکھنے/سننے کے لیے جاوا سکرپٹ آن اور تازہ ترین فلیش پلیئر نصب ہونا چاہئیے

ونڈوز میڈیا یا ریئل پلیئر میں دیکھیں/سنیں

بھارت کے وزیرِ خارجہ نے کہا ہے کہ دلّی میں ہونے والے دولتِ مشترکہ کھیل بین الاقوامی معیار کے عین مطابق ہوں گے۔

دولتِ مشترکہ کھیل تین سے چودہ اکتوبر تک بھارتی دارالحکومت نئی دہلی میں منعقد ہونا ہیں تاہم سکیورٹی اور حفظانِ صحت کے ناقص انتظامات کی بنا پر ان مقابلوں کے انعقاد پر شکوک کے بادل چھانے لگے ہیں۔

بھارتی وزیرِ خارجہ ایس ایم کرشنا نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے کہا کہ ان کا ملک آئندہ ماہ ہونے والے مقابلوں کے انعقاد میں کامیاب رہے گا۔

ان کا کہنا تھا کہ مون سون کی طوالت کی وجہ سے ان کھیلوں کی تیاریاں متاثر ہوئی ہیں تاہم ’دولتِ مشترکہ کھیل نہ صرف بین الاقوامی معیار کے عین مطابق منعقد ہوں گے بلکہ یہ اب تک کے کامیاب ترین کھیلوں کے مقابلے بھی ثابت ہوں گے‘۔

کھیلوں کے آغاز سے دو ہفتے قبل بھی تعمیراتی کام جاری ہے

ایس ایم کرشنا کا کہنا تھا کہ ان مقابلوں میں شریک ہر کھلاڑی اور ہر سٹیڈیم کی کڑی حفاظت کا انتظام کیا جائے گا۔ خیال رہے کہ سکیورٹی وجوہات کے باعث آسٹریلیا کی نامی گرامی ڈسکس پھینکنے والی کھلاڑی ڈینی سیموئیل اور انگلینڈ کے ٹرپل جمپ ایتھلیٹ فلپ اڈؤو نے کامن ویلتھ کھیلوں میں شرکت نہ کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔

آسٹریلیا کے وزیر کھیل مارک اربیب کا کہنا ہے کہ آ‎‎سٹریلیا کے دوسرے کھلاڑی بھی ڈینی سیمویئل کے نقش قدم پر چل سکتے ہیں جو سکیورٹی اور صحت کے مسائل کے سبب کامن ویلتھ گیمز میں شرکت نہیں کرنا چاہتی ہیں جبکہ نیوزی لینڈ کے وزیرِاعظم جان کی نے بھی اعلان کیا ہے کہ اگر ان کے ملک کا کوئی کھلاڑی ان کھیلوں میں حصہ نہیں لینا چاہتا تو وہ اس کی مدد کرنے کو تیار ہیں۔

ان کا یہ بھی کہنا ہے کہ اس موقع پر کھیلوں کو منسوخ ہونا، ان کھیلوں کے مستقبل اور عالمی سطح پر بھارت کی ساکھ کو خطرے میں ڈال سکتا ہے۔

دولتِ مشترکہ کھیل نہ صرف بین الاقوامی معیار کے عین مطابق منعقد ہوں گے بلکہ یہ اب تک کے کامیاب ترین کھیلوں کے مقابلے بھی ثابت ہوں گے۔ایس ایم کرشنا

دولتِ مشترکہ کھیلوں کے لیے دلی میں تیار کیے گئے سب سے اہم جواہر لال نہرو سٹیڈیم کی مصنوعی چھت کا ایک حصہ گر جانے سے، دلی میں کھیلوں کی تیاریوں پر نئے سوال بھی اٹھائے جا رہے ہیں۔

سٹیڈیم کی اصلی چھت کے نیچے خوبصورتی کے لیے تیار کی گئی مصنوعی چھت کا ایک حصہ بدھ کو گرا لیکن حکام کا کہنا ہے کہ یہ ایک چھوٹا واقعہ ہے جس سے کسی کو پریشان ہونے کی ضرورت نہیں ہے۔ اس سے ایک دن قبل ہی جواہر لال نہرو سٹیڈیم کے قریب پیدل چلنے والوں کے لیے بنایا گیا ایک پل گرنے سے تئیس مزدور زخمی ہوگئے تھے جن میں سے پانچ کی حالت اب بھی نازک بتائی جا رہی ہے۔

سکاٹ لینڈ کے حکام اور کھلاڑیوں پر مشتمل چالیس سے زائد افراد کے وفد نے دلی کے لیے اپنی فلائٹ میں تاخیر کرنے کا اعلان کیا ہے جبکہ انگلینڈ کی ٹیم کی شرکت کے متعلق اگلے اڑتالیس گھنٹوں میں فیصلے کی توقع ہے۔

انگلینڈ کی ٹیم کے سربراہ کریگ ہنٹر نے پہلے ہی خبردار کیا تھا کہ کھیل کے آرگنائزر کے ہاتھ سے وقت بہت تیزی سے نکلتا جا رہا ہے۔

غیر ملکی ٹیم سکیورٹی کے حوالے سے خدشات کا شکار ہیں

گزشتہ روز کامن ویلتھ کھیل فیڈریشن کے صدر مائیکل فینل نے دلی میں بنائےگئے کھیل گا‎ؤں پر تشویش ظاہر کی تھی اور کہا تھا کہ کھیل گاؤں کی تیاریاں معیار کے مطابق نہیں ہیں۔ انہوں نے کامن ویلتھ آرگنائزنگ کمیٹی کو الٹی میٹم دیا ہے کہ وہ تئیس تاریخ سے پہلے تیاریاں مکمل کرلیں۔

ذرائع بلاغ میں ان کھیلوں سے متعلق بد عنوانی، ان کے وقت پر ہونے، نہ ہونے یا کس طرح ہونے جیسے مختلف پہلوؤں پر بحث جاری ہے۔

ان تمام قیاس آرائیوں کے درمیان بھارتی حکومت اور دلی حکومت کے اہل کاروں کی جانب سے بار بار یہ یقین دہانی کرانے کی کوشش کی جا رہی ہے کہ جو مشکلات ہیں انہیں حل کر لیا جائیگا اور کھیل شاندار طریقے سے وقوع پذیر ہوں گے۔

[an error occurred while processing this directive]

BBC navigation

BBC © 2014 بی بی سی دیگر سائٹوں پر شائع شدہ مواد کی ذمہ دار نہیں ہے

اس صفحہ کو بہتیرن طور پر دیکھنے کے لیے ایک نئے، اپ ٹو ڈیٹ براؤزر کا استعمال کیجیے جس میں سی ایس ایس یعنی سٹائل شیٹس کی سہولت موجود ہو۔ ویسے تو آپ اس صحفہ کو اپنے پرانے براؤزر میں بھی دیکھ سکتے ہیں مگر آپ گرافِکس کا پورا لطف نہیں اٹھا پائیں گے۔ اگر ممکن ہو تو، برائے مہربانی اپنے براؤزر کو اپ گریڈ کرنے یا سی ایس ایس استعمال کرنے کے بارے میں غور کریں۔