کشمیر: کرفیو جاری، ایک اور ہلاکت

کشمیر
Image caption کرفیو کے سبب عام عوام کو پریشانیوں کا سامنا ہے

ہندوستان کے زیر انتظام کشمیر کے شہر سری نگر میں بدھ کو بارہویں روز بھی سخت ترین کرفیو جاری رہا ہے۔

اس دوران تیرہ ستمبر کو مظاہرین پر فائرنگ کے واقعہ میں زخمی ہونے والے ایک اٹھارہ سالہ نوجوان نے سری نگر کے ایک ہسپتال میں دم توڑ دیا۔ اس طرح کُل ہلاکتوں کی تعداد ایک سو نو ہوگئی ہے۔

وسطی ضلع بڈگام کے شیخ پورہ گاؤں کے رہنے والے سجاد احمد کے جنازے میں سینکڑوں لوگوں نے شرکت کی۔ بعد میں لوگوں نے بھارت مخالف نعرے بازی کی۔ اس دوران گاؤں کے چاروں طرف سخت محاصرہ تھا۔ تاہم اس موقعہ پر کوئی تشدد یا تصادم نہیں ہوا۔

حکام نے دوپہر کو بعض علاقوں میں کرفیو میں نرمی بھی کی۔ واضح رہے جمعرات کو علیحدگی پسندوں نے کسی مظاہرے کی کال نہیں دی اور لوگوں سے کہا تھا کہ اس روز ضروری اشیا کی خریداری کی جائے۔

واضح رہے کہ بھارتی وزیرداخلہ پی چدامبرم کی قیادت میں قریب چالیس اراکین پارلیمان کا یہ وفد پیر کےروز وادی کے دورے پر آیا تھا۔ اس دوران بھارتی رہنماؤں نے سید علی گیلانی سمیت سرکردہ علیحدگی پسند رہنماؤں کے ساتھ ان کے گھر پر ملاقات کی ہے۔ سری نگر کے علاوہ وفد نے جموں کا بھی دورہ کیا تھا۔

کشمیر میں گزشتہ تین ماہ سے حالات کشیدہ ہیں اور وزیر اعظم منموہن سنگھ نے سبھی پارٹیوں سے کشمیر مسئلہ پر بات چیت کے لیے آل پارٹی اجلاس کیا تھا جس کے بعد آل پارٹی وفد کشمیر کے دورے پر گیا تھا۔

وفد کا مقصد کشمیر کے حالات کا جائزہ لینا تھا۔

تقریبا بارہ دن سے پوری وادی میں سخت ترین کرفیو نافذ ہے، اور لوگوں کو زبردست مشکلات کا سامناہے۔ قابل ذکر ہے کہ جون سے جاری '' بھارت چھوڑو تحریک'' میں پولیس اور نیم فوجی دستوں کی فائرنگ سے ایک سو آٹھ افراد ہلاک اور سینکڑوں دیگر زخمی ہوگئے ہیں۔

اسی بارے میں