آئیکیا کی بھارت میں آمد

Image caption آئیکا بھارت میں نچلی سطح پر ترقی کے لیے ایک سو تریسٹھ ملین ڈالر کی رقم خرچ کرے گا

بھارت کی ریاست اتر پریش جو ہندو مذہب کا دھڑکتا دل ہے کے شہر ورنسائی سے دو گھنٹے کی مسافت پر ایک چھوٹے سےگاؤں میں ایک بڑی آمد کا بے چینی سے انتظار تھا۔

جسے ہی اس گاؤں میں گاڑیوں کا قافلہ پہنچا تو وہاں فضا میں گھبراہٹ عیاں تھی تو زمین پر حیران کن جوش اور مختلف سرگرمیاں جاری تھیں۔

فرنیچر کی ایک بڑی عالمی کمپنی آئیکیا کے چیف ایگزیکٹو مائیکل اولسن کا گاؤں میں خواتین کے گروپ نے روایتی طریقے سے آرتی کے ذریعے استقبال کرتے ہوئے نمستے کہا۔

سنہ انیس سو نوے میں بہت ساری ملٹی نیشنل کمپنیوں پر الزام عائد ہوا تھا کہ وہ بھارت جیسے ممالک سے اپنی مصنوعات تیار کرواتے ہیں جہاں ان منصوعات کی تیاری میں بچوں سے مشقت کروائی جاتی ہے۔

اس کے بعد سے آئیکیا جیسی کمپنیوں نے اس بات کو یقینی بنانے پر بنانے کے لیے کام شروع کیا کہ ان کی مصنوعات کی تیاری میں کارکنوں سے بدسلوکی اور استحصال نہیں کیا جاتا ہے۔

اقوام متحدہ کی بچوں کے لیے کام کرنے والی ایجنسی یونیسف کے مطابق بھارت میں صرف اترپردیش کی ریاست میں چھ سال سے لے کر چودہ سال کی عمر تک کے انیس لاکھ بچے کام کرتے ہیں۔

آئیکیا نے بھارت جیسے ممالک میں اپنی مصنوعات کی تیاری کے حوالے سے اس بات کو یقینی بنانے کے لیے کہ ان کی مصنوعات کی تیاری میں بچوں سے مشقت اور لوگوں کو مشکل حالات میں کام کرنے کے لیے مجبور نہ کیا جائے، بھارت میں کروڑوں ڈالر کی رقم خرچ کی ہے۔

رواں سال آئیکیا نے یونیسف جیسے اداروں کے ذریعے بھارت میں نچلی سطح پر ترقی کے لیے ایک سو تریسٹھ ملین ڈالر رقم خرچ کرے گا۔ آئیکیا کے مطابق یہ رقم خواتین کے حقوق، صحت کے حوالے سے آگاہی اور تعلیم پر خرچ ہو گی۔ صعنت سے وابستہ اس پروگرام سے دس کروڑ بچے اور خواتین مستفید ہونگے۔

آئیکیا کے چیف ایگزیکٹو کا مقصد صرف سماجی ذمہ داری کو پورا نہیں کرنا تھا بلکہ اس کا مقصد بھارت میں اپنے کاروبار کو وسیع پیمانے پر وسعت دینا ہے۔

آئیکیا بھارت میں اپنی پروڈکشن میں دوگنا اضافہ کر رہا ہے۔آئیکا کے لیے بھارت ایک ارب سے زائد آبادی اور آٹھ فیصد کے حساب سے اقتصادی ترقی میں اضافے کی وجہ سے ایک بڑی یورپ جیسے فائدہ مند منڈی بن سکتا ہے۔

ماہرین کے مطابق بھارت کی مڈل کلاس میں اضافہ ہو رہا ہے اور وہ پہلے کی نسبت زیادہ کما اور خرچ کر رہا ہے۔ اس کے علاوہ مڈل کلاس اب غیر ملکی مصنوعات خریدنے کے لیے تیار ہیں۔

آئیکیا کے اس وقت چالیس ممالک میں تین سو سٹور ہیں اور ابھی اس نے جنوبی ایشیا کی سب سے بڑی منڈی میں اپنا سٹور نہیں کھولا ہے۔

آئیکیا نے بھارت میں سٹور قائم کرنے ہیں لیکن ابھی تک نہیں کیے۔ گزشتہ سال اس نے بھارت میں ایک ارب ڈالر کے سرمایہ سے پچیس سٹور کھولنے کا فیصلہ کیا تھا۔

اس دوران اس کا کہنا تھا کہ بھارت میں براہ راست سرمایہ کاری کے حوالے سے قواعد و ضوابط ابھی قابل اصلاح ہیں۔

آئیکیا اس وقت کے حالات کے مطابق بھارت میں تجارت ایک مقامی کمپنی سے شراکت داری کے ذریعے کر سکتا ہے۔ اس مقامی کپمنی کے شراکت انچاس فیصد ہونی چاہیے۔

ہو سکتا ہے کہ اس وقت بہت ساری مقامی کمپنیاں آئیکیا کے ساتھ شراکت داری کرنے پر تیار ہوں لیکن آئیکیا کے چیف ایگزیکٹو کا کہنا ہے کہ شراکت داری نہیں ہو گی۔

اسی بارے میں