بھارت پر دباؤ میں مزید اضافہ

بھارت کے وزیرِاعظم منموہن سنگھ اور سینیئر وزراء نے دولتِ مشترکہ کھیلوں میں کھلاڑیوں کی سکیورٹی اور سہولیات پر کئی ممالک کے اعتراضات اور نکتہ چینی کے بعد صورتِ حال کے ازالے کے لیے ایک اہم ترین اجلاس میں شرکت کی ہے۔

ادھر دولتِ مشترکہ کھیلوں میں حصہ لینے والے چند بڑے دستوں میں شامل انگلش کامن ویلتھ گیمز ٹیم نے دلّی جانے کا اعلان کر دیا ہے۔ انگلش دستے کے اعلٰی اہلکار اینڈریو فوسٹر نے بی بی سی کو بتایا کہ کھلاڑیوں کی رہائشی سہولیات میں خاصی بہتری آئی ہے۔

دلی: کھیل گاؤں میں رہائش کی تصاویر

خیال رہے کہ دولتِ مشترکہ کھیلوں میں شرکت کرنے والی اقوام کی جانب سے دلی میں کھلاڑیوں کی رہائشگاہوں کی حالتِ زار پر خدشات ظاہر کیے گئے ہیں۔ انگلش فیڈریشن کا بھی کہنا ہے کہ وہ حالات کا جائزہ لیتی رہے گی۔

بھارتی وزیرِ اعظم نے کینیڈا کے اہلکاروں کی کڑی تنقید کے بعد کہ بھارتی اہلکاروں کی ’لا تعلقی ناقابلِ فہم‘ ہے، کھیلوں کے وزیر ایم ایس گِل کو اپنی رہائش گاہ پر طلب کیا اور ان سے صورتِ حال پر بات چیت کی۔ توقع ہے کہ بھارتی وزراء اس حوالے سے ایک بیان بھی جاری کریں گے۔

کھیل گاؤں جہاں سات ہزار کھلاڑی رہائش پذیر ہوں گے ابھی بھی نامکمل ہے۔ کھیل گاؤں کے بارے میں شکایات ہیں کہ بارش کا پانی اندر آ گیا ہے، غسل خانے خراب ہیں اور آوارہ کتے چند بستروں پر سوئے پائے گئے ہیں۔

بھارت میں تین اکتوبر سے منعقد ہونے والی دولتِ مشترکہ کی کھیلوں کے حوالے سے منتظمین پر سکیورٹی اور سہولیات کے بارے میں دباؤ بڑھ رہا ہے۔ کینیڈا اور سکاٹ لینڈ کے بعد نیوزی لینڈ نے بھی اعلان کیا ہے کہ اس کے کھلاڑی کھیلوں میں حصہ لینے کے لیے تاخیر سے پہنچیں گے۔ کینیڈا کے حکام کا کہنا ہے کہ بھارت سکیورٹی اور کھلاڑیوں کی سہولیات کے حوالے سے خدشات کو سنجیدگی سے نہیں لے رہا۔

کھیل گاؤں کے حوالے سے صفائی اور سکیورٹی کے بارے میں مختلف ممالک کو تحفظات ہیں تاہم بھارتی حکومت کا اصرار ہے کہ کھیل میں عالمی معیار کو برقرار رکھا جائے گا۔

نیوزی لینڈ اولمپک کمیٹی کے صدر مائیک سٹینلے نے کہا ہے کہ رہائشی سہولیات اور دیگر خدشات کے باعث نیوزی لینڈ کے کھلاڑی اب دہلی اٹھائیس ستمبر کو پہنچیں گے۔ ’یہ بات کافی مایوس کن ہے۔ ہمارے خدشات کی ایک لمبی فہرست کے باعث کھلاڑی کھیل گاؤں میں طے شدہ وقت پر نہیں جا سکتے۔‘

دوسری جانب آسٹریلیا کا کہنا ہے کہ کھیلوں میں حصہ نہ لینے کے بارے میں بات چیت نہیں ہوئی ہے لیکن موجودہ پالیسی جس کے تحت یہ بات کھلاڑیوں پر چھوڑ دی گئی ہے کہ کھیلوں میں وہ حصہ لینا چاہتے ہیں یا نہیں تبدیل ہو سکتی ہے۔ سنگاپور کھیلوں کے سربراہ کا کہنا ہے کہ وہ دہلی میں حالات کا جائزہ لے رہے ہیں۔

دہلی میں بی بی سی کے نامہ نگار کا کہنا ہے کہ کھیل کے منتظمین نے سینکڑوں کارکن مزید کام پر لگائے ہیں تاکہ سہولیات میں جو کمی بیشی ہے ان کو پورا کیا جا سکے لیکن اس کے باوجود بہت کام کرنا باقی ہے۔

دولت مشترکہ کی کھیلوں کے سربراہ مائیکل فینل بھی منتظمین سے بات چیت کرنے کے لیے دلی پہنچ گئے ہیں۔ کھیلوں میں حصہ لینے والے ممالک کے نمائندے دلی میں پہلے ہی سے موجود ہیں اور کھلاڑیوں کو فراہم کی جانے والی سہولیات اور سکیورٹی کے انتظامات کا جائزہ لے رہے ہیں۔

Image caption 1) کھیل گاؤں: بھارتی میڈیا کے مطابق چونتیس میں سے اٹھارہ ٹاور مکمل ہوئے ہیں۔ 2) دریائے جمنا: اس سال بارشوں نے تیس سالہ ریکارڈ توڑا ہے جس کے باعث دریا میں طغیانی ہے اور مچھروں کی بھرمار۔ 3) نہرو سٹیڈیئم: ویٹ لفٹنگ کے مقابلے ہونے والے سیکشن میں مصنوعی چھت کا ایک حصہ گر گیا۔ 4) نہرو سٹیڈیئم کی جانب پیدل جانے والے افراد کے لیے پل منگل کے روز گر گیا۔ 5) جامع مسجد: دو سیاح فائنگ میں زخمی ہوئے اور واقعہ کی ذمہ داری بھارتی مجاہدیان نے قبول کی۔ 6) شیوجی سٹیڈیئم: اب اس کو استعمال نہیں کیا جائے گا کیونکہ وقت پر تیار نہ ہو سکا۔ 7) جمنا سپورٹس کمپلیکس: جولائی میں بارشوں کے باعث اس کی چھت کو نقصان پہنچا۔

اسی بارے میں