دلت سے روٹی کھاکر کتّا بھی دلت

کتا دلت خاتون کے ساتھ
Image caption یہ کتا دلت خاتون سے روٹی کھانے کے سبب اپنے مالک کے گھر نہیں رہ سکتا

بھارت کی ریاست مدھیہ پردیش میں ایک شخص نے دلت خاتون کے ہاتھوں روٹی کھانے پر اپنے پالتو کتّے کو گھر سے نکال دیا ہے۔

مذکورہ کتّا ایک راجپوت خاندان کا ہے جسے دلت خاتون نے روٹی کھلائی۔ بطور سزا پنچایت نے روٹی کھلانے کے جرم میں خاتون پر بھی پندرہ ہزار روپے کا جرمانہ عائد کیا ہے۔

خاتون نے اس زیادتی کے لیے پولیس سے شکایت کی ہے لیکن ان کا کہنا ہے کہ حکام نے اس بارے میں کوئی کارروائی نہیں کی ہے۔

کتے کا نام شیرو اور اس کے مالک کا نام امرت لال ہے۔ یہ واقعہ مدھیہ پردیش کے ضلع مرینا میں مانیکا پور گاؤں کا ہے۔

ہوا یوں ہے کہ دلت خاتون سنیتا جاٹو کھیت میں کام کرنے والے اپنے شوہر کے لیے کھانا لے کر گئی تھیں۔ شوہر کے کھانے کے بعد روٹی کے جو ٹکڑے بچے تھے وہ انہوں نے اس پالتو کتے کو ڈال دیے۔

شیرو نے روٹی بڑے شوق سے کھالی مگر اس کے مالک امرت لال نے دیکھ لیا۔ پہلے تو امرت لال نے سنیتا کو کھری کھوٹی سنائی پھر یہ کہہ کر کہ چونکہ اس کے کتّے نے دلت کے گھر کی روٹی کھا لی ہے اس لیے اب وہ اس لائق نہیں رہا کہ اس کے گھر میں رہ سکے۔

اب یہ کتّا گاؤں میں دلتوں کی اکثریت والے علاقے میں ایک کھمبے سے باندھ دیا گیا ہے۔ اور مالک اسے لے جانے کے لیے تیار نہیں۔

کتے کے اونچی ذات کے مالک نےگاؤں کی پنچایت میں دعویٰ کیا ہے کہ اس کتّے کی شکل میں اس کا بہت نقصان ہوا اس لیے پنچایت نے دلت خاتون پر پندرہ ہزار روپے کا جرمانہ عائد کر دیا۔

یہ معاملہ اب اس خصوصی تھانے میں ہے جس میں ہریجن اور دلتوں کے معاملات کی دیکھ ریکھ ہوتی ہے۔

بھارت میں ذات پات کی بنیاد پر لوگوں کے ساتھ امتیازی سلوک ایک عام بات ہے۔ دیہی علاقوں میں نام نہاد اونچی ذات کے لوگ اپنے کنویں سے دلتوں کو پانی نہیں بھرنے دیتے اور نا ہی ان کے کنویں سے پیتے ہیں۔

اسی بارے میں