کشمیر:بھارتی وفد اور آزادی کے نعرے

جو لوگ سمجھتے ہیں کہ بھارتی وفد نے کشمیر آکر لوگوں سے ملنے ملانے کی محض ایک رسم نبھائی ہے یہ ان کی سوچ اِس دورے کی اہمیت کو ماند کرنے کے متّرادف ہے۔

اہم بات یہ ہے کہ اِس وفد میں بھارت کی تمام چھوٹی بڑی پارٹیوں کے اراکینِ پارلیمان شامل تھے جو پورے ملک کی نمائندگی کرتے ہیں اور جو اپنے رائے عامہ کو کشمیر کے حقیقی حالات سے باخبر رکھنے میں کافی اہمیت رکھتے ہیں۔

دوسری بات اس وفد میں ایسے اراکین بھی موجود تھے جو پہلی بار کشمریوں سے مل کر حالات کا مشاہدہ کرکے آئے ہیں ورنہ اِنہیں کشمیر سے متعلق خبریں صرف میڈیا چینلوں، ریاستی سرکار کے اہلکاروں اور اپنے نمائندوں سے ملتی تھیں جو اُن حالات سے کافی مختلف ہیں جو اِنہوں نے خود جاکر دیکھے۔

تیسری اہم بات یہ ہے کہ اگر موجودہ حکومت کشمیر معاملے پر کوئی بھی قدم اُٹھاتی ہے اِس کا سہرا وہ بجائے اپنے سر لینے کے تمام سیاسی جماعتوں پر ڈالنا چاہتی ہے جو اِس وفد میں شامل تھیں کیونکہ حکمران جماعت کو ووٹ بینک سیاست کا بھی خیال رکھنا ہوگا۔

اگر حکمران پارٹی دوسری جماعتوں کے سامنے کشمیر کے حالات کی خود تصویر کشی کرتی شاید وہ اتنی خطرناک نہ دکِھتی جتنی اِن جماعتوں نے کشمیر میں اپنی آنکھوں سے دیکھی۔ بھارتی وفد میں شامل بعض اراکین نےحالات کے مشاہدے کے بعد ہی اظہار خیال کرتے ہوئے کہا کہ بات اندرونی خودمختاری سے آگے پہنچ گئی ہے اور عوام کے غصے کو کم کرنے کے لئے مزید کچھ کرنے کی ضرورت ہے۔

بھارتی وفد جہاں بھی گیا اور جس کسی سے بھی ملا اکثر مرتبہ اُس کو آزادی کے نعروں کی گونج سنائی دی حتٰکہ ہسپتال میں پولیس کے ہاتھوں زخمیوں سےملنےکے دوران آزادی کی جو گونج سنائی دی وفد کے اراکین بغیر عیادت کے وہاں سے کھسکا لیےگئے۔

بھارتی میڈیا کو دورے کی لایئو رپورٹنگ کی اِجازت دینا غیر اہم نہیں سمجھی جاسکتی ہے بلکہ دلی کی چینلوں کو وفد کے ساتھ آکر اُس کو براہ راست نشر کرنا کافی کچھ اِشارے دیتا ہے اور شاید بڑی وجہ رائے عامہ کو کشمیر کے حل کی جانب تیار کرنا بھی ہے۔

گوکہ دورے کا روڈ میپ ریاست کی حکمران جماعت نےاپنے انداز سے تیار کی تھی مگر حالات کی نزاکت اور سنگینی نے روڈ میپ کے مطابق چلنے کی گنجائش ہی نہیں چھوڑی۔

آئندہ دنوں میں بہت تبدیلیاں ممکن ہیں مثلا شہروں اور آبادیوں میں سے سیکورٹی کے اہلکاروں کو منتقل کرنا، پی ایس اے ہٹانا، اسیروں کی رہائی، ہلاکتوں کی جانچ پڑتال کے لئے ایک کمیشن کا انعقاد اور افسا میں ردوبدل وغیرہ۔

بعض حلقوں سے یہ بھی اشارے مل رہے ہیں کہ راہول اور سونیا گاندھی کے اِصرار کے باوجود عمر عبداللہ کو شاید اپنی وزارت چھوڑنی پڑے اور گورنر راج کے بعد پی ڈی پی کو ایک بار پھر حکومت کرنے کا موقعہ فراہم کیا جائے کیونکہ کشمیر میں آزادی کی تحریک کو ماند کرنے اور حریت رہنماؤں کو گمنام کرنے میں پی ڈی پی کی حکومت کو ہر مرتبہ سراہا جاتا ہے۔

کشمیر مسئلے کےلئےاگرچہ آج کل بیشتر رکنِ پارلیمان متحد ہوکر اندرونی خودمختاری کا واحد حل بتاتے ہیں مگر خود ان اراکین کو بخوبی اندازہ ہوگیا ہے کہ بات خودمختاری سے آگے نکل چکی ہے۔

عنقریب ہی دانشوروں سیاست دانوں اور با رسوخ افراد کی مدد سے ڈائیلاگ کا عمل شروع کیا جانے کی اُمید ہے البتہ یہ بات شدت سے محسوس کی جا رہی ہے کہ دانشور طبقہ اب گفتگو شروع کرنے سے قبل آئینِ ہند کے تحت اندرونی خودمختاری کا حل بتاکر گفتگو کو آگے چلنے ہی نہیں دیتے جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ کشمیر بھیجنے سے پہلے سرکار نے انہیں یہی پٹی پڑھائی ہے۔

یہاں لندن میں آئین ہند کے ایک ماہر علیم احمد کےمطابق آئین کے تحت ’اندرونی خودمختاری سے بہت زیادہ‘ دینے کی گنجائش موجود ہے جس کے لئے ضروری ہے کہ حکومت ’مزید‘ دینے میں سنجیدہ ہو ۔

اسی بارے میں