بھارت کشمیر سےفوج کم کرنے پر ’غور‘ کے لیے تیار

Image caption ریاستی حکومت کو پبلک سکیورٹی ایکٹ کے تحت گرفتاریوں پر نظر ثانی کرنے کا مشورہ دیا گیا ہے: بھارتی وزیر داخلہ

بھارت کی حکومت نے کشمیر کی صورتحال پر قابو پانے کےلیے کشمیر میں سکیورٹی فورسز کی تعداد میں کمی پر ’غور‘ سمیت آٹھ نکاتی تجاویز پیش کی ہیں۔

دلی میں سکیورٹی سے متعلق کابینہ کی ایک اہم میٹینگ کے بعد وزیر داخلہ چدامبرم نے اس کی تفصیلات بتاتے ہوئے کہا کہ کشمیر کی صورتحال کا جائزہ لینے کے لیے جانے والے وفد کے اراکان سے مشاورت سے جو رپورٹ تیار کی گئی تھی اس کی بنیاد پر مرکزی حکومت نے کشمیر کے لیے آٹھ تجاویز پیش کی ہیں۔

کشمیر میں بھارتی وفد اور آزادی کے نعروں کی گونج

ان آٹھ تجاویز میں حکومت کو سبھی کشمیری گروپوں سے بات چيت، کشمیر میں سکیورٹی کی صورت حال کا از سر نو جائزہ، حراست میں لیےگئے افراد کی رہائی اور ہلاک ہونے والے افراد کے اہل خانہ کو معاوضہ دینےکا ذکر کیا گیا ہے۔

پی کے چدامبرم نے کہا کہ بھارتی حکومت کشمیر کے سبھی طبقوں کے لوگوں سے ’مستقل مذاکرات‘ کےلیے ایک نمایاں شخصیت کی سربراہی میں ثالثی کرنے والوں کا ایک گروپ قائم کرےگی۔یہ گروپ سیاسی جماعتوں، گروپوں، نوجوانوں، طلباء اور سول سوسائٹی کی تنظیموں سے بات چیت کرے گا۔ انہوں نے کہا کہ ’ہم ریاستی حکومت کو مشورہ دیں گے کہ وہ ان تمام طلباء اور نوجوانوں کو رہا کر دے جنہیں پتھر پھینکنے جیسے معاملات میں گرفتار کیاگیا ہے۔‘

وزیر داخلہ پی چدامبر م کا کہنا تھا کہ ریاستی حکومت کو پبلک سکیورٹی ایکٹ کے تحت گرفتاریوں پر نظر ثانی کرنے کا مشورہ دیا گیا ہے۔

کشمیر کی سکیورٹی اور فورسز کی تعینیاتی کے متعلق ان کا کہنا تھا ہم ریاستی حکومت کو مشورہ دیتے ہیں کہ وہ فوری طور پر یونیفائیڈ کمانڈ کی میٹنگ طلب کرے اور وادی کشمیر بلخصوص سرینگر میں سکیورٹی فورسز کی تعیناتی کے بارے میں از سر نو جائزہ لے۔ وہ اس بات کا بھی جائزہ لے کہ سرینگر اور دوسرے شہروں میں بنکرز، چیک پوائنٹ وغیر کی تعداد میں کیسے کمی کی جائے اور ڈسٹرب علاقوں کی نوٹیفیکشن کا بھی ازسر نو جائزہ لیا جانا چاہیے۔‘

مرکزی حکومت نے جون سے اب تک تشدد میں مارے گئے ہر ایک کے شخص کےاہل خانہ کو پانچ پانچ لاکھ روپے بطور معاوضہ دینے کا اعلان کیا ہے۔

حکومت کا کہنا ہے کہ جموں اور لداخ کی ترقی کےلیے دو خصوصی ٹاسک فورس کا قیام کیا جائےگا جو ان علاقوں کی ترقیاتی ضروریات کو پورا کرنے کے لیے کام کریں گے۔

مرکزی حکومت نے جموں کشمیر کی حکومت سے کہا ہے کہ وہ تمام تعلیمی ادارے بشمول یونیورسٹی کالجز اور سکول جلد از جلد کھولنے کی کوشش کرے اور تعلیم کے لیے خصوصی انتظام کرے۔

بھارتی حکومت نے کشمیر میں سکول کالجز کے بہتر انفراسٹکچر کے لیے ایک سو کروڑ روپے دینے کا بھی اعلان کیا ہے۔

ایک سوال کے جواب میں بھارتی وزیر داخلہ نے کہا ہے حکومت کے خیال سے ان آٹھ اقدامات کے نفاذ سے کشمیر کے سبھی گروپوں کی تشویش کا ازالہ ہو جائےگا۔

اسی بارے میں