کشمیر: تعلیمی ادارے کھولنے کا اعلان

کشمیر
Image caption کشمیر میں جاری حالیہ کشیدگی کی وجہ سے سکولوں میں تعلیم بری طرح متاثر ہوئی ہے

کشمیر میں حکومت نے اعلان کیا ہے کہ تعلیمی اداروں میں معمول کی سرگرمیاں بحال کی جائیں گی اور پیر سے تمام سکول اور کالج کھول دیے جائیں گے۔

اس دوران علیحدگی پسند رہنما سید علی گیلانی نے پیر سے دس روزہ ’کیلینڈر‘ جاری کر دیا جس کے تحت سات روز تک ہڑتال ہوگی۔

سکولی بچوں کے والدین میں اس حوالے سےتذبذب پایا جاتا ہے، تاہم جموں کشمیر حکومت کے وزیرِ تعلیم پیرزادہ محمد سعید نے اتوار کو ایک پریس کانفرنس میں اعلان کیا کہ ’بچوں کی سیکورٹی کا خاص خیال رکھا جائے گا۔‘

وزیر کا کہنا تھا کہ کرفیو کی صورتحال میں طلبا کے شناختی کارڈ کو کرفیو پاس تصور کیا جائے گا، جبکہ سکول بسوں کے تحفظ کے لئے پولیس کو خاص ہدایات دی گئی ہیں۔

حکومت نے ستمبر اور اکتوبر میں نویں سے بارہویں جماعت تک ہونے والے تمام امتحانات کے لیے ڈیٹ شیٹ بھی جاری کردی ہے۔

قابل ذکر ہے کہ مسٹر گیلانی نے پچھلے ہفتے تعلیم کو بحال کرنے کی ضرورت کا اعتراف کیا تھا اور کہا تھا کہ ان کے اگلے کیلینڈر میں ان ضرورتوں کو ملحوظ خاطر رکھا جائے گا۔

سید علی گیلانی نے اتوار کو جاری ایک بیان میں والدین سے اپیل کی کہ وہ پیر کو بچوں کو سکول نہ بھیجیں۔ انہوں نے بیان میں کہا: ’اگر حکومت کو طالب علموں کی فکر ہوتی تو وہ طالب علموں پر گولیاں برسانے کا حکم نہیں دیتے۔‘

تاہم حکومت نے ان تمام ایام میں کرفیو نافذ کیا جب گیلانی نے معمول کی زندگی بحال کرنے کی اپیل کی تھی اور اعلان کیا کہ ہرحال میں تعلیمی سرگرمیاں بحال کی جائیں گی۔

دریں اثناء اتوار کو سرینگر اور دیگر قصبوں میں کرفیو میں نرمی کی گئی جس دوران لوگوں نے ضروری اشیاء کی خریداری کی۔

سنیچر کو بھارتی وزیرداخلہ پی چدامبرم نے کشمیر کے لئے ’خاص پیکیج‘ کا اعلان کیا تھا۔

انہوں کہا کہ پولیس کارروائیوں کے دوران ہلاک ہونے والے افراد کے کنبوں کو پانچ لاکھ روپے کی نقد امداد اور ریاست میں انتظامی ڈھانچے کی دوبارہ تعمیر کے لیے سو کروڑ روپے کی مالی معاونت دی جائے گی۔ اس کے علاوہ قیدیوں پر لگے الزامات کا نئے سرے سے جائزہ لیا جائے گا، اور فوج کو حاصل اختیارات کا جائزہ وزیراعلیٰ عمرعبداللہ کی ذمہ داری ہوگی۔

تاہم اس اعلان کو سید علی گیلانی نے ’اشک شوئی‘ سے تعبیر کرتے ہوئے مزاحمت جاری رکھنے کا اعلان کیا ہے۔

اسی بارے میں