بابری مسجد پر فیصلہ تیس ستمبرکو آئیگا

بابری مسجد
Image caption اس تاریخی بابری مسجد کو ہندو کارسیوکوں نے مسمار کر دیا تھا

ہندوستان کی سپریم کورٹ نے بابری مسجد رام جنم بھومی تنازعہ کا کوئی متفقہ حل تلاش کرنے کے لیے مزید مہلت دینے کی درخواست مسترد کرتے ہوئے اس تنازعے کے فیصلے پر لگی ہوئی عارضی پابندی ہٹا لی ہے۔

اس فیصلے کے فورا بعد ہی الہ آباد ہائی کورٹ کی لکھنؤ بینچ نے فیصلہ تیس ستمبر کو سنانے کا اعلان کر دیا ہے۔

الہ آباد ہائی کورٹ اب اس مقدمے کا فیصلہ جمعرات کو دوپہر بعد ڈھائی بجے سنائيگی۔

منگل کی صبح چیف جسٹس ایس ایچ کپاڈیا کی سربراہی میں عدالت عظمیٰ کے تین رکنی بنچ نے سبھی فریقوں اور اٹارنی جنرل کی آراء سننے کے بعد اپنے فیصلے میں اس عرضی کو مسترد کر دیا جس میں الہ آباد ہائی کورٹ کے فیصلے کو موخر کرنے کی استدعا کی گئی تھی۔

عدالت کا کہنا تھا کہ یہ ایک حساس معاملہ ہے اور اگر یہ بات چیت کے ذریعے حل ہو جا تا ہے تو بہتر ہے لیکن اس مقدمے کے دو اہم فریقوں سنی وقف بورڈ اور ہندو مہا سبھا نےفیصلہ موخر کرنے کی مخالفت کی تھی۔

ایودھیا کے ایک اہم ہندو ادارے ’نرموہی اکھاڑہ‘ نے عدالت سے درخواست کی تھی کہ اس مسئلے کو عدالت سے باہر بات چیت کے ذریعے حل کرنے کے لیے ہائی کورٹ کے فیصلے کو تین مہینے کے لیے مؤخر کر دیا جائے۔

اٹارنی جنرل واہن وتی نے کہا کہ اگر کسی طرح کی مصالحت کے امکان ہیں تو حکومت اس کا خیر مقدم کرے گی لیکن وہ نہیں چاہتی کہ اس معاملے سے غیر یقینی فضا بنی رہے ۔

Image caption بابری مسجد کے مقام پر اب یہ مندر قائم ہے جہاں ہر روز پوجا ہوتی ہے

اس سے قبل ساٹھ برس طویل اس مقدمے کا فیصلہ الہ آباد ہائی کورٹ 24 ستمبر کو سنانے والی تھی لیکن فیصلے سے عین ایک روز قبل ایک سبکدوش افسر کی درخواست پر سپریم کورٹ نے ہائی کورٹ کے فیصلہ دینے پر روک لگا دی تھی۔ ہائی کورٹ نے اپنا فیصلہ محفوظ رکھا ہے۔

مفاد عامہ کے عرضی گزار کے وکیل نے کامن ویلتھ گیمز اور کشمیر کی صورتحال کا حوالہ دیتے ہوئے دلیل دی کہ سکیورٹی کی موجودہ صورتحال کے پیش نظر اس تنازعہ کا فیصلہ فی الحال موخر کر دیا جائے۔

الہ آباد ہائی کورٹ کی جس بنچ نے بابری مسجد کی ملکیت کے مقدمے کی سماعت مکمل کی ہے اس کے ایک جج یکم اکتوبر سے سبکدوش ہو رہے ہیں اس لیے ضابطے کے مطابق اس مقدمے کا فیصلہ 30 ستمبر تک دے دیا جانا چاہیئے۔ ورنہ اس مقدمے کی سماعت کسی دوسری بنچ کو از سر نو کرنی ہو گی ۔ اس لیے اس کا فیصلہ بدھ اور جمعرات تک آ جانے کی پوری توقع ہے۔

ماضی میں بھی بابری مسجد - رام جنم بھومی کے تنازعہ کو بات چیت کے ذریعے حل کرنے کی کئی بارکوششیں کی جا چکی ہیں لیکن ان مذاکرات میں کوئی پیش رفت نہ ہو سکی ۔

مسلم رہنما مذاکرات کے خلاف نہیں ہیں لیکن ان کا کہنا ہے کہ ایک ایسے مرحلے پر جب اس مقدمے کا فیصلہ آنے والا تھا اسے روک کر بات جیت کا عمل شروع کرنے کا کوئی جواز سمجھ میں نہیں آتا۔

دوسری جانب مندر کا مقدمہ لڑنے والی ہندو تنطیمیں یہ پہلے ہی واضح کر چکی ہیں کہ یہ مذہبی عقیدے کا معاملہ ہے اور اس کا فیصلہ عدالتیں نہیں کر سکتیں۔ ان کا یہی موقف رہا ہے کہ وہ عدالت کا فیصلہ صرف اس صورت میں تسلیم کریں گی جب وہ ان کے حق میں ہو۔

بی جے پی اوردوسری ہندو تنطیمیں یہ کہتی رہی ہیں کہ بابری مسجد کے متناعہ مقام کو یا تو بات چیت کے ذریعے ہندوؤں کے حوالے کر دیا جائے یا پھر پارلیمنٹ میں ایک قانوں بنا کر اسے مندر کی تعمیر کے لیے وقف کر دیا جائے۔

چھ دسمبر 1992 میں بابری مسجد گرائے جانے کے بعد ہندو کارسیوکوں نے مسجد کے مقام پر مورتیاں نصب کر دی تھیں اور سپریم کورٹ نے اس کی ''جس حالت میں ہے '' والی پوزیشن تسلیم کر لی تھی۔ اس وقت سے عملی طورپر بابری مسجد کا مقام ایک مندر میں بدل چکا ہے اور وہاں روزآنہ ہندو عقیدت مند پوجا اور درشن کے لیے آتے ہیں۔

بابری مسجد میں 1949 میں جبرا مورتی رکھنے کے بعد مقامی انتظامیہ نے اس مسجد میں مسلمانوں کے نماز پڑھنے پر پابندی عائد کر دی تھی اور اس پر تالہ لگا دیا تھا۔ فیض آباد کی ایک مقامی عدالت نے 1986 میں اسے ہندوؤں کے لیے کھول دیا تھا اور مسلمانوں کے داخلے پر پابندی لگی رہی۔

ہندو تنظیموں کے زیر اہتمام ایودھیا میں ایک ورکشاپ بنائی گئی ہے جس میں مجوزہ رام مندر کے سارے ستون پتھر اور بت وغیرہ تراش کر رکھے ہیں۔ رام مندر نیاس کو صرف مندر بننے کے فیصلے کا انتظار ہے۔

اسی بارے میں