ایودھیا، فیصلے کا عمومی طور پر خیر مقدم

فائل فوٹو
Image caption فیصلے سے بیشتر افراد خوش نظر آتے ہیں

بابری مسجد رام جنم بھومی پر الہ آباد ہائی کورٹ کے فیصلے کا بھارت کی تقریبا تمام سیاسی جماعتوں اور تنظیموں نے خیر مقدم کیا ہے۔

کانگریس پارٹی کے ترجمان جناردھن دویدی نے کہا کہ اگر '' معاملہ بات چیت سے حل ہو تا تو بہتر تھا لیکن عدالت کے فیصلے پر بھی کسی کو اعتراض نہیں ہے اور ہمارا موقف بھی یہی رہا ہے''

بھارتیہ جنتا پارٹی کا کہنا ہے کہ عدالت کے فیصلے سے یہ واضح ہو گیا ہے کہ متنازعہ جگہ رام مندر ہی ہے۔ پارٹی کا یہ بھی کہنا ہے کہ یہ ایک ’مثبت پیش رفت‘ ہے

سنی وقف بورڈ کے وکیل ظفر یاب جیلانی نے کہا ہے کہ وہ ہائی کورٹ کے فیصلے سے متفق تو نہیں ہیں لیکن اس سے بہت زیادہ مایوس ہونے کی بھی ضرورت نہیں ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ فیصلے کی تفصیلات سامنے آنے کے بعد اسے سپریم کورٹ میں چیلنج کیا جائیگا۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ بات چیت کے لیے ہمیشہ سے دروازے کھلے ہیں لیکن اس کا فیصلہ مسلم پرسنل لاء بورڈ کو کرنا ہوگا۔

سرکردہ وکیل پرشانت بھوشن نے اس فیصلے کو قانونی ہونے کے بجائےایک سیاسی فیصلہ قرار دیا ہے۔

وشو ہندو پریشد کے سربراہ آچاریہ گری راج کشور نے ایک بیان میں اس فیصلے کا خیر مقدم کرتے ہوئے کہا کہ '' اب مسلمانوں سےگزارش ہے کہ وہ متھرا اور کاشی کو بھی ہمارے حوالے کر کے اپنے لئے خیر سگالی کے جذبات حاصل کریں''

Image caption فیصلے سے ایودھیا کے سادھو بہت حوش ہیں

واضح رہے کہ متھرا کی عیدگاہ اور کاشی میں ایک مسجد پر بھی بابری مسجد کی نوعیت کے تنازعات ہیں۔

وی ایچ پی کے جنرل سیکریٹری پروین توگاڑیہ کا کہنا ہے کہ اب اس جگہ پر عظیم رام مند کی تعمیر ہونی چاہیے۔ انہوں نے اپنے لاکھوں کار سیوکوں کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ اس تنازعے میں جان کی قربانی دینے والوں کو ہم خراج عقیدت پیش کرتے ہیں۔

راشٹریہ سویم سیوک سنگھ یعنی آر ایس ایس کے سربراہ موہن بھاگوت نے فیصلے کا خیر مقدم کرتے ہوئے کہا کہ اب مندر بنانے کا راستہ بالکل صاف ہو گیا ہے۔ان کا کہنا تھا کہ '' ہم مسلمانوں سمیت سبھی سے یہ اپیل کرتے ہیں کہ وہ مندر بنانے میں تعاون کریں۔ رام ہماری قومی قدروں کی علامت ہیں اس لیے اسے قومی اتحاد کا موقع سمجھ کر مندر تعمیر کرنے میں ہماری مدد کریں۔''

اسی دوران فیصلے کے مختلف پہلوؤں پر میڈیا میں بحث بھی جاری ہے۔ بیشتر افراد اب بھی بات چیت کے زریعے اس معاملے کو حل کرنے کی بات کر رہے ہیں۔ بعض فیصلے کی پیچیدگیوں سے حیران ہیں تو بعض کے نزدیک عدالت کو لوگوں کے عقیدوں پر فیصلہ نہیں کرنا چاہیے تھا۔

بعض مسلم رہنماؤں نے فیصلے پر کھلے عام ناراضگی کا اظہار بھی کیا ہے۔ لیکن عمومی طور پر لوگ اس کا احترام کرتے نظر آئے ہیں تاہم اس معاملے کو سپریم کورٹ تک لے جانے کی باتیں بھی کی جارہی ہیں۔

اسی بارے میں