کشمیراسمبلی: ' ہم سب قاتل ہیں'

فائل فوٹو
Image caption کرفیو کے درمیان کشمیر اسمبلی کا اجلاس ہوا ہے

بھارت کے زیر انتظام جموں کشمیر کی ستاسی رُکنی قانون ساز اسمبلی کے اجلاس میں ایک آزاد رکن اسمبلی نے کشمیر کو متنازعہ خطہ قرار دیتے ہوئے دعویٰ کیا کہ سبھی ستاسی اراکین اسمبلی حالیہ کشمیر میں ہوئی ہلاکتوں کے ذمہ دار ہیں۔

یہ اجلاس جمعرات کو سخت ترین کرفیو کے بیچ سرینگر میں شروع ہوا ہے۔

حزب اختلاف کی پیپلز ڈیموکریٹک پارٹی کی سربراہ محبوبہ مفتی نے ایک سو نو ہلاکتوں میں ملوث فورسز اہلکاروں کو گرفتار کرنے کا مطالبہ کیا اور یہ کہہ کر واک آوٹ کیا کہ انصاف ملنے تک وہ اور ان کے بیس ساتھی اسمبلی کا بائیکاٹ کریں گے۔

اس دوران آزاد اسمبلی ممبر عبدالرشید شیخ ، جنہوں نے بازو پر کالی پٹی باندھی تھی، نے ایوان میں کشمیر کو 'متنازعہ خطہ' قرار دیا اور کہا کہ اسمبلی کا ہر ایک رُکن کشمیر پر کیے گئے 'جبری قبضہ' کی علامت ہے۔

انہوں نے جذباتی لہجہ میں تقریر کرتے ہوئے کہا: '' ہم سب قاتل ہیں۔ کشمیر متنازعہ ہے، یہ اعتراف کرنے میں ہم کو شرم نہیں آنی چاہیئے۔''

عبدالرشید کی تقریر پر بھارتی جنتاپارٹی، پینتھرس پارٹی اور کانگریس کے بعض ممبران نے ایوان میں شور مچا کر احتجاج کیا۔ بی جے پی سربراہ اشوک کھجوریہ نے عبدالرشید سے مخاطب ہو کر کہا: '' آپ نے بھارتی آئین پرحلف لیا، یہ باتیں کہہ کر آپ آئین کی توہین کرتے ہیں''۔

سپیکر محمد اکبرلون اور وزیرقانون علی محمد ساگر نے بھی مداخلت کی اور عبدالرشید کو بھارت مخالف تقریر سےگریز کرنے کے لئے کہا۔ تاہم مسٹر رشید نے کشمیر میں ہوئی حالیہ ہلاکتوں کے لئے وزیراعظم منموہن سنگھ کوبراہ راست ذمہ دار ٹھہراتے ہوئے کہا: '' بھارتی آئین میں تو اظہار رائے کی آزادی ہے۔ ہم لوگ جبری قبضہ کی علامت کیوں بنیں، ہم کو تو مفاہمت اور مصالحت کی علامت ہونا چاہیئے تھا۔''

Image caption کشمیر میں حالات سے عوام سخت پریشانیوں سے گزر رہے ہیں

اس سے قبل اپوزیشن رہنما محبوبہ مفتی نے وزیراعلیٰ عمرعبداللہ کو تنقید کا نشانہ بنایا۔ ان کا کہنا تھا کہ وزیراعلیٰ نے فورسز چوکیوں پر نوجوانوں کے پتھراؤ کو خودکشی قرار دے کر دراصل فورسز اہلکاروں کو قتل عام کرنے کی اجاز دے دی۔

آخر پر وزیراعلیٰ عمرعبداللہ نے کہا کہ وہ ان پر عائد کیےگئے الزامات کا جواب ایوان کی دیگر نشتوں میں دینگے۔ تاہم ان کا کہنا تھا کہ، '' جو ایک سو نو افراد مارے گئے وہ سب شہید ہوگئے۔ ان کے قاتلوں کو اگر پھانسی دے جائے تو یہ بری بات نہیں، لیکن میرے لئے سب سے بڑی خوشی وہ ہوگی اگر ان قربانیوں سے کشمیریوں کو کوئی بڑا فائدہ پہنچےگا۔''

قابل ذکر ہے عمرعبداللہ نے اسمبلی اجلاس سے قبل ایک عوامی اجتماع سے خطاب کے دوران یہ واضح کردیا تھا کہ جموں کشمیر ہونے والے الیکشن اور مسلہ کشمیر کے درمیان کوئی واسطہ نہیں ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ انہوں نے الیکشن مسلہ کشمیر کو حل کرنے کے لئے نہیں بلکہ لوگوں کو بنیادی ضروریات فراہم کروانے کے لئے لڑا ہے۔

قابل ذکر ہے کہ قریب ساڑھے تین ماہ سے وادی بھر میں احتجاجی تحریک جاری ہے۔ اس تحریک کو دبانے کے لئے حکومت نے گیارہ ستمبر سے سخت ترین کرفیو نافذ کیا ہے۔ پچھلے ایک ہفتے سے کرفیو میں مرحلہ وار نرمی کی جاتی تھی، لیکن جمعرات کو اسمبلی اجلاس کی وجہ سے لگاتار کرفیو نافذ رہا۔

اسی بارے میں