وزیرستان میں ڈرون حملے، نو ہلاک

ڈرون
Image caption حالیہ دنوں میں شمالی ززیرستان ڈرون حملوں کی ذد میں رہا ہے

پاکستان کے قبائلی علاقے شمالی وزیرستان میں حکام کے مطابق امریکی جاسوس طیاروں کےدو مختلف حملوں میں نو افراد ہلاک اور چار زخمی ہوئے ہیں۔

ہلاک ہونے والے مقامی طالبان بتائے جاتے ہیں۔

میرانشاہ میں ایک سرکاری اہلکار نے بی بی سی کو بتایا کہ سنیچر کی صُبح ساڑھےدس بجے کے قریب شمالی وزیرستان کے صدر مقام میرانشاہ سے کوئی تیس کلومیٹر دور افغان سرحد کے قریب تحصیل دتہ خیل کے علاقے آسڑ میں امریکی جاسوسی طیاروں نے ایک مکان کو نشانہ بنایا۔

اہلکار کے مطابق امریکی جاسوس طیارے سے پانچ میزائل داغے گئے جس سے مکان بھی مکمل طور پر تباہ ہوگیا ہے۔ اہلکار کا کہنا تھا کہ ہلاک ہونے والوں میں حافظ گل بہادر گروپ کے طالبان بتائے جاتے ہیں۔

دوسرا حملہ دن دو بجے تحصیل دتہ خیل میں ہی ہوا جس میں تین مزید ہلاکتیں ہوئیں۔ دوسرے حملے میں ایک مشتبہ مکان پر چار میزائل داغے گئے۔

تاہم اس میں کسی اہم شخصیت کی ہلاکت کی تصدیق نہیں کی جاسکی ہے۔

Image caption ڈرون حملے کی ذد میں کئی عام شہری بھی آئے ہیں

مقامی لوگوں کا کہنا ہے کہ پچھلےکئی دنوں سے اس علاقے پر ڈرون حملے ہورہے ہیں جس میں زیادہ تر مقامی طالبان ہی ہلاک ہوئے ہیں۔ لوگوں کے مطابق ڈرون حملوں میں غیر ملکی پنجابی طالبان کے علاوہ گھروں میں موجود کچھ عام شہری بھی نشانہ بنے ہیں۔ اس میں بچے اور خواتین شامل ہیں۔

لیکن سرکاری طور پر ڈرون حملوں میں خواتین اور بچوں کی ہلاکت کی تصدیق نہیں کی جاسکی ہے۔

گزشتہ کئی دنوں سے امریکی جاسوسی طیارے علاقے میں معمول سے ہٹ کر نچلی پروازیں کررہے ہیں اور ایک ہی وقت میں چھ سے آٹھ امریکی جاسوس طیارے فضاء میں موجود ہوتے ہیں۔

اس کے خلاف گزشتہ روز شمالی وزیرستان میں طُلباء اور عام شہریوں کی جانب سے ایک احتجاجی مظاہرہ بھی ہوا تھا۔ احتجاجی مظاہرے کے دوران طُلباء نے بینرز اُٹھا رکھے تھے جن پر ’امریکہ مُردہ باد‘ اور ’ڈرون حملے بند کرو‘ کے نعرے درج تھے۔

مقامی لوگوں کا کہنا ہے کہ مقامی طالبان تو تقریباً ہر قیبلے میں موجود ہیں۔ جس پر حملے کے دوران عام شہری بھی نشانہ بن جاتے ہیں۔

سرکاری اعداد و شمار کے مطابق اس سال شمالی وزیرستان میں پینسٹھ اور جنوبی وزیرستان میں چھ ڈرون حملے ہوچکے ہیں۔ سرکاری اہلکاروں کے مطابق ستمبر کے مہینے میں شمالی وزیرستان میں بیس ڈرون اور جنوبی وزیرستان میں تین حملے ہوئے ہیں۔ ان حملوں میں سینکڑوں لوگ ہلاک ہوچکے ہیں۔

اسی بارے میں