کشمیر، سکیورٹی فورسز کے سولہ بنکرز ختم

فائل فوٹو
Image caption کشمیر میں بنکرز کم کرنے کا فیصلہ بھارتی حکومت نے کیا تھا

اطلاعات ہیں کہ بھارت کے زیر انتظام کشمیر کے دارالحکومت سرینگر میں سکیورٹی فورسز کے سولہ بنکرز کو ہٹانے کا کام تقریبامکمل کر لیا گیا ہے۔

کشمیر کشمیر، تصاویر

سکیورٹی فورسز نے گزشتہ روز سرینگر سے بنکرز ہٹانے کا کام شروع کیا تھا۔

بدھ کو ریاست کے وزیر اعلیٰ عمر عبداللہ نے اسمبلی میں اعلان کیا کہ پندرہ بنکرز کو ہٹا دیا گیا ہے۔

سی آر پی ایف یعنی سینٹرل ریزرو پولیس فورس کے ایک اعلیٰ اہلکار پربھاکر ترپاٹھی نے بی بی سی کو بتایا ’بنکرز کو ہٹانے کا کام جلد ہی مکمل کر لیا جائیگا‘۔

گزشتہ ماہ ستمبر کی انتیس تاریخ کو کشمیر کی یونیفائیڈ کمانڈ نے ایک اہم فیصلے میں سرینگر سے بنکرز ہٹانے کا فیصلہ کیا تھا۔

یونیفائڈ کمانڈ کی میٹنگ وزیر اعلیٰ عمر عبداللہ کی صدارت میں ہوتی ہے جس میں عام طور پر فوج کے تمام اعلی کمانڈر، پیرا ملٹری فورسز، سی ار پی ایف کے سینیئر ترین حکام اور پولیس سربرہان شرکت کرتے ہیں۔

اس میٹنگ سے قبل مرکزی حکومت نے ایک اہم فیصلے کے تحت کشمیر کے بعض علاقوں سے فورسز میں کمی کرنے کا اعلان کیا تھا۔

سرینگر سمیت کشمیر کے دیگر علاقوں میں جگہ جگہ سکیورٹی فورسز کے بنکرز ہیں لیکن بھارتی حکام نے ان کے متعلق ابھی کوئی فیصلہ نہیں کیا ہے۔

ماہرین کہتے ہیں کہ ان بنکرز کو ہٹانے کی کوئی اہمیت ہے یا یہ محض ایک کاسمیٹک کارروائی یا دکھاوے کا عمل ہے، اس بارے میں ابھی کچھ نہیں کہا جا سکتا ہے۔

بعض کے مطابق یہ ایک صحیح قدم ہے لیکن ابھی بہت کچھ کرنے کی ضرورت ہے۔

اسی بارے میں