’پاکستانی فوجی اہلکاروں‘ کو انٹرپول کا نوٹس

ہیڈلی سے عدالت میں سوال جواب کی ایک سکیچ
Image caption ممبئی حملوں کی تفتیش جاری ہے

انٹرپول نے ممبئی پر حملوں کے سلسلے میں دو ایسے افراد کی گرفتاری کے لیے ریڈ نوٹس جاری کیے ہیں جن کے بارے میں بھارت کا کہنا ہے کہ وہ پاکستان کی فوج کے افسر ہیں۔ ان مبینہ فوجی افسران کے نام میجر ثمیر علی اور میجر اقبال بتائے گئے ہیں۔

انٹرپول کی ویب سائٹ پر جو تفصیلات شائع کی گئی ہیں ان کے مطابق دونوں کا تعلق لاہور سے ہے اور دونوں ہی کی عمر تقریباً پینتالیس برس ہے۔ ریڈ نوٹس کے ذریعہ انٹرپول اپنے ایک سو اٹھاسی رکن ممالک کو یہ اطلاع دیتا ہے کہ کسی شخص کی گرفتاری کے لیے کسی عدالت سے گرفتاری کا ورانٹ جاری کیا گیا ہے۔

دونوں فوجی افسران کے نام لشکر طیبہ سے تعلق رکھنے والے ڈیوڈ کولمیں ہیڈلی سے تفتیش کے دوران سامنے آئے تھے۔ ہیڈلی کو ممبئی پر حملوں کےسلسلے میں امریکی پولیس نے گرفتار کیا تھا۔

بھارتی مرکزی تفتیشی بیورو سی بی آئی کے ترجمان آر کے گوڑ نے بتایا ’بھارت میں اس معاملے کی تفتیش نیشنل انویسٹی گیشن ایجنسی (این آئی اے) کر رہی ہے جس نے دلی کی ایک ذیلی عدالت سے پانچ پاکستانی شہریوں کے خلاف غیر ضمانتی وارنٹ حاصل کیے تھے۔‘

پاکستان کی جانب سے اس کے بارے میں ابھی تک کوئی رد عمل سامنے نہیں آیا ہے۔ مکمل تفصیلات ملنے تک ان افراد کے بارے میں حتمی طور پر یہ نہیں کہا جا سکتا کہ وہ پاکستان فوج کے افسران ہیں یا نہیں۔

دونوں فوجی افسران کےعلاوہ الیاس کشمیری، عبدالرحمان ہاشم اور ساجد میر کے خلاف بھی نوٹس جاری کیا گیا۔

یہ تینوں بھی پاکستانی شہری بتائے گئے ہیں۔ مرکزی تفتیشی بیورو کے مطابق الیاس کشمیری کا تعلق کوٹلی سے ہے جبکہ ساجد میر اور عبدالرحمان کا لاہور سے۔ عدالت نے غیر ضمانتی وارنٹ ڈیوڈ ہیڈلی سے تفتیش کی رپورٹ کی بنیاد پر جاری کیے ہیں۔

ان پانچوں کے بارے کہا جا رہا ہے کہ ان کے نام ان دستاویزات میں شامل تھے جو بھارت نے ممبئی پر حملوں کے سلسلے میں پاکستان کو دیے ہیں۔

جماعت دعوۃ کے سربراہ حافظ سعید، ابو حمزہ اور ذکی الرحمان لکھوی کے خلاف بھی گزشتہ اگست میں ریڈ کارنر نوٹس جاری کیے جاچکے ہیں۔

بھارت میں قائم نئے تحقیقاتی ادارے این آئی اے نے گزشتہ برس نومبر میں ڈیوڈ کول مین ہیڈلی اور تحور حسین رانا کے خلاف مقدمہ قائم کیا تھا اور ان پر الزام ہے کہ انہوں نے دلی اور ملک کے دوسرے علاقوں میں دہشت گردی کے حملے کرنے کے لیے لشکر طیبہ اور حرکت الجہا الاسلامی کے ساتھ مل کر سازش رچی تھی۔

مطلوبہ افراد کی گرفتاری متعلقہ پولیس فورس ہی کرتی ہے لیکن اس کام میں اسے انٹرپول کی جانب سے تعاون فراہم کیا جاتا ہے۔

اسی بارے میں