انقلابی رہنما نے اپنی سیاسی جماعت بنانے کا اعلان کردیا

غدر
Image caption غدر اپنی شاعری کو مخصوص انداز میں پیش کرتے ہیں

بھارت میں کمیونسٹ نظریات کے حامی فنکار اور شاعر غدر نے اپنی ایک سیاسی جماعت '' تیلنگانہ پرجا فرنٹ'' بنانے کا اعلان کیا ہے۔

واضح رہے کہ جنوبی ریاست آندھر پردیش میں ایک الگ تیلنگانہ ریاست بنانے کی تحریک چل رہی ہے اور غدر کی سیاسی جماعت کے اعلان سے تحریک میں ایک نیا ولولہ پیدا ہوگیا ہے۔

بی بی سی سے بات کرتے ہوئے غدر نے کہا کہ ان کی جماعت علحیدہ تیلنگانہ ریاست کے قیام کے لیے تحریک چلائےگی۔

بعض افراد کا کہنا ہے کہ چونکہ غدر ماؤنواز باغیوں کی حمایت کرتے رہے ہیں اس لیے ان کی جماعت کے آنے سے تیلنگانہ کی تحریک ماؤنوازوں کے ہاتھ میں چلی جائیگی۔

لیکن غدر اسے مخالفین کا پرپیگنڈہ قرار دیتے ہیں۔ ان کا کہنا ہے '' تیلنگانہ کی تحریک جمہوری ہے اور اگر ماؤنواز اس کی حمایت کرتے ہیں تو یہ ان کا حق ہے۔ لیکن کچھ لوگ ماؤنوازوں کے نام پر اس تحریک کو بدنام کرنا چاہتے ہیں اور یہ تاثر پھیلانے کی کوشش کر رہے ہیں کہ جیسے پتہ نہیں کیا ہوجائیگا۔''

غدر کا کہنا ہے کہ ان کے خیال سے صرف الیکشن سے الگ تیلنگانہ ریاست کا قیام مشکل ہے اس لیے اس کے لیے بھر پور تحریک چلانے کی ضرورت ہے اور لاکھوں افراد کو اس میں شامل کرنا ہوگا۔

بیس برس قبل روپوشی کی زندگی ترک کرنے کے بعد اسی نظام کالج میں غدر نے لاکھوں لوگوں کے سامنے اپنے انقلابی گیتوں کے ساتھ فن کا مظاہرہ کیا تھا۔

غدر کو ایک انقلابی شاعر مانا جاتا ہے جو اپنے مخصوص انداز میں عوام کے سامنے اپنے نغمے پیش کرتے ہیں۔ ان کے مداح کہتے ہیں کہ غدر کی شاعری اور ان کا فن بندوق کی گولی سے بھی زیادہ طاقت ور ثابت ہوتا ہے۔

غدر علیحدہ ’تیلنگانہ ریاست‘ کی تشکیل کی پہلے بھی حمایت کرتے رہے ہیں اور اس بارے میں بڑی سرگرمی سے مہم چلائی ہے۔ لیکن اس کے لیے ایک نئی سیاسی جماعت کا اعلان دوسری جماعتوں کے لیے باعث تشویش ہوسکتا ہے۔

جنوبی ریاست آندھرا پردیش کے دارالحکومت حیدرآباد سمیت اس سے متصل گیارہ اضلاع پر مبنی ایک علیحدہ ریاست تیلنگانہ کے قیام کا مطالبہ کافی پرانا ہے اور اس کے لیے طویل جد جہد جاری ہے۔

تیلنگانہ راشٹریہ سمیتی نامی سیاسی جماعت کے رہنما چندر شیکھر راؤ اس ریاست کے لیے کام کرتے رہے ہیں اور ماہرین کے مطابق غدر کے سامنے آنے سے سب سے زیادہ دھچکہ اسی جماعت کو لگ سکتا ہے۔

اسی بارے میں