اجمیر درگاہ پر فاقے سے تین ہلاک

فائل فوٹو
Image caption درگاہ کی زیارت کے لیے ہر برس ہزاروں لوگ آتے ہیں

بھارت کی ریاست راجستھان میں اجمیر کی پولیس کا کہنا ہے کہ توہم پرستی کے ایک واقعے میں ایک خاندان کے تین افراد ہلاک ہو گئے ہیں۔

پولیس کا کہنا ہے کہ ہلاک ہونے والے افراد کا تعلق ریاست اترپردیش کے شہر الہ آباد سے ہے۔

حکام کا کہنا ہے کہ الہ آباد کے مصطفی شیخ کا خاندان اجیمر میں خواجہ معین الدین چشتی کی درگاہ کی زیارت کے لیے آیا تھا اور اپنی منّت کے لیے گزشتہ کئی روز سے فاقہ کرتے ہوئے عبادت کر رہا تھا۔

کئی روز بھوکے پیاسے رہنے کے سبب پیر کے روز مصطفی شیخ کی ایک بائیس سالہ بیٹی محشر جہاں، دو بیٹے سترہ سالہ نوشیر اور بارہ برس کے سلام ہلاک ہو گئے۔

خاندان کے دس دیگر افراد کو نازک حالت میں وہیں اجیمر کے ہسپتال میں داخل کرایا گیا ہے۔

اجمیر کے پولیس سربرہ ہری پرساد شرما کا کہنا تھا: ’یہ ایک توہم پرستی کا معاملہ ہے۔ یہ لوگ کئی روز سے بھوکے تھے اور درگاہ عبادت کے لیے آتے رہے، پیر کو ان میں سے تین کی موت واقع ہو گئی، باقی کو کافی نازک حالت میں ہسپتال میں داخل کرایا گیا ہے، وہاں بھی وہ علاج سے منع کر رہے تھے اور کہہ رہے تھے کہ یہ ان کی عبادت کا حصہ ہے۔‘

پولیس کے مطابق اس خاندان کے دو افراد کا تعلق مرچنٹ نیوی سے ہے اور وہ تعلیم یافتہ ہیں۔

اطلاعات کے مطابق باپ نے کبھی اپنے خواب میں یہ دیکھا تھا کہ انہیں بھوکے پیٹ رہ کر عبادت کرنی ہے اس لیے ڈھائی برس قبل یہ خانادن اجمیر آگیا۔ تبھی سے یہ افراد ہر روز درگاہ آکر عبادت کرتے رہے تھے۔

لیکن گزشتہ تقریباً ایک ماہ سے ان لوگوں نے کھانا کھانا چھوڑ دیا تھا۔ درگاہ کے رضاکار جب ان سے اس بارے میں کہتے تو وہ کہتے کہ انہوں نے منّت مانگی ہے اس لیے اس میں کوئی مداخلت نا کی جائے۔

اطلاعات کے مطابق اس خاندان نے چالیس روز تک فاقہ کرنے کا عہد کیا تھا۔ پولیس کے مطابق ’ابھی باقی بچے لوگوں کو ہسپتال میں گلوکوز لگایا گیا ہے۔ علاج جاری ہے اور پولیس معاملے کی تفتیش کر رہی ہے۔‘

ادھر درگاہ کے ناظم نے متاثرین کو مالی مدد دینے کا اعلان کیا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ وہاں ہزاروں لوگ زیارت کے لیے آتے ہیں اور سب پر نظر رکھنا مشکل ہے۔

اسی بارے میں