حریت مارچ کے خلاف کشمیر میں سخت کرفیو

فائل فوٹو
Image caption کرفیو کے سبب لوگ گھروں میں پھر محصور ہیں

بھارت کے زیر انتظام کشمیر میں منگل کی صبح حکام نے ایک بار پھر سے سخت ترین کرفیو اور سکیورٹی کے لحاظ سے دیگر کئی سخت پابندیاں نافذ کر دی ہیں۔

حریت کانفرنس کے ایک دھڑے نے لوگوں سے کہا تھا کہ حیدرپورہ میں واقع علیحدگی پسند رہنما سید علی گیلانی کی رہائش گاہ تک مارچ کرکے مسٹر گیلانی کی مسلسل نظربندی کے خلاف احتجاج کریں۔

پولیس کے ایک سینیئر افسر نے بی بی سی کو بتایا ہے کہ حریت کے بعض کارکن شہر میں پُرتشدد سرگرمیوں کا منصوبہ بنا رہے تھے جس کی اطلاع ملنے پر وادی میں کرفیو کا اعلان کیا گیا ہے۔

اس دوران سرینگر میں کرفیو کے دوران اپنے حامیوں سے ملنے کے لیےجانے والے حکمران جماعت کے ایک رکن اسمبلی پیر آفاق کو نیم فوجی دستوں نے زد و کوب کیا ہے۔

Image caption کرفیو کے سبب عوام کی زندگی متاثر ہو رہی ہے

عینی شاہدین کا کہنا ہے کہ پیر آفاق سرینگر کے جڈی بل علاقہ میں اپنے حامیوں سے ملنے جا رہے تھے کہ انہیں پولیس اور نیم فوجی دستوں نے روکا۔ اس دوران فورسز کے ساتھ ان کی تکرار ہوئی اور اہلکاروں نے ان کو زدوکوب کیا۔ پولیس کا کہنا ہے کہ انہوں نے کرفیو کی خلاف ورزی کی تھی۔

واضح رہے کہ وادی میں پچھلے چار ماہ سے کشیدگی جاری ہے جس کے دوران فورسز کی کارروائیوں میں ایک سو دس افراد مارے گئے ہیں۔ حالات کو معمول پر لانے اور گیلانی کے احتجاجی کیلنڈر کو ناکام بنانے کے لیے حکومت نے سکولوں میں اساتذہ کی حاضری کو لازمی قرار دیا ہے۔

ہڑتالوں کے دوران تعلیمی اداروں میں اساتذہ اور دیگر سٹاف کی حاضری کا معائنہ پولیس کرتی ہے جس پر اساتذہ نے تشویش کا اظہار کیا ہے۔ سکولوں کے ساتھ ساتھ کالج اور یونیورسٹی سطح کے امتحانات بھی وقت پر منعقد کرنے کا اعلان کیا گیا ہے۔

موجودہ تحریک کی قیادت کرنے والے سید علی گیلانی نے طریقہ کار میں نرمی نہیں لائی ہے۔ وہ ہر دس روز کے بعد احتجاجی کیلنڈر جاری کرتے ہیں جس میں اوسطاً ایک ہفتہ کی ہڑتال ہوتی ہے۔ عوامی ریلیوں یا مارچ کی کال کے خلاف حکومت سخت کرفیو نافذ کرتی ہے۔

مذاکرت میں شمولیت کے لیے مسٹر گیلانی نے حکومت ہند کے سامنے پانچ شرائط رکھی ہیں جن میں جموں کشمیر کو متنازعہ خطہ تسلیم کرنا، قیدیوں کی رہائی، آبادیوں سے فوج کی واپسی شامل ہیں۔

اسی بارے میں