ویسٹرن ریلوے کی پہلی خاتون ڈرائیور

پریتی کمار
Image caption پریتی کمار کا تعلق بہار سے ہے

مہاراشٹر کے تجارتی شہر ممبئی کی لائف لائن کہلانے والی لوکل ٹرین کے اہم سٹیشن چرچ گیٹ پر منگل کو معمول سے زیادہ اژدہام تھا۔

وجہ تھی ویسٹرن ریلوے کی پہلی خاتون ڈرائیور پریتی کمار کی حوصلہ افزائی کرنے والوں کی بھیڑ جس میں سٹاف ممبران کے علاوہ پریتی کے جاننے والے بھی موجود تھے۔

دو بج کر انتیس منٹ پر چرچ گیٹ سے بوریولی جانے والی ٹرین پہلی مرتبہ ایک خاتون ڈرائیور نے چلائی۔

ان کی مدد کے لیے البتہ چیف لوکو انسپکٹر بھی موجود تھے تاکہ ان کا حوصلہ بڑھے۔ لیڈیز کمپارٹمنٹ میں خواتین اور ریلوے سٹاف بہت خوش تھیں، ان کا کہنا تھا کہ عورتیں ہر میدان میں مردوں کی طرح ہی کام کر رہی ہیں۔ اب تک لوکل ٹرین چلانا صرف مردوں کا اعزاز تھا لیکن اب خواتین نے اس میدان میں قدم رکھ دیا ہے۔

ممبئی میں لوکل ٹرینوں کے تین اہم روٹ ہیں جن میں سینٹرل، ویسٹرن اور ہاربر لائن ہیں۔

پریتی سے قبل سینٹرل ریلوے کی ٹرین کی پہلی خاتون ڈرائیور سریکھا یادو نے سن دو ہزار میں لوکل ٹرین چلا کر تاریخ رقم کی تھی کیونکہ تب وہ ایشیا کی پہلی خاتون ٹرین ڈرائیور تھیں لیکن ٹھیک دس برس بعد پریتی کمار بھی تاریخ کا حصہ بنیں کیونکہ انہیں ویسٹرن ریلوے کی پہلی خاتون ڈرائیور بننے کا اعزاز حاصل ہوا ہے۔

چھ ماہ کی تربیت کے بعد انہیں فوراً ڈرائیور کا عہدہ مل گیا جبکہ سریکھا نے کافی عرصہ تک اسسٹنٹ ڈرائیور کے طور پر کام کیا تھا۔

Image caption خواتین مسافر نے خوشی کا اظہار کیا

چونتیس سالہ پریتی بہار کی رہنے والی ہیں۔ گریجویشن مکمل کرنے کے بعد انہوں نے الیکٹرانکس میں ڈپلوما حاصل کیا۔ گزشتہ برس اگست سے پریتی مہالکشمی کے الیکٹریکل ٹریننگ کالج میں تربیت حاصل کر رہی تھیں۔

’میں بہت خوش ہوں۔ اور جانتی ہوں کہ لوکل ٹرین چلانا ایک بہت ہی ذمہ داری کا کام ہے‘۔ پریتی کو خود پر فخر ہے اور یقین بھی ہے کہ وہ لوگوں کی توقعات پر پورا اتریں گی۔

پریتی شادی شدہ ہیں۔ ان کے شوہر دیوکانت ایئر فورس ریڈیو محکمہ میں سرجنٹ کے عہدے پر ہیں۔ پریتی کے مطابق انہیں یہاں تک پہنچنے میں ان کے شوہر کا بہت بڑا ہاتھ ہے۔ ’وہ میری ہمت ہیں اور ان کے تعاون کی وجہ سے آج میں اس مقام پر ہوں۔‘

ممبئی اور اس کے مضافات میں تقریباً ایک کروڑ پچاس لاکھ لوگ آباد ہیں اور لوکل ٹرین نقل و حمل کا اہم ذریعہ ہے۔ روزانہ ریلوے کے تین اہم روٹس سے تقریباً پینسٹھ لاکھ لوگ سفر کرتے ہیں۔

اسی بارے میں