کامن ویلتھ گیمز کا شاندار اختتام

گیارہ روز قبل دلی میں شروع ہونے والے کامن ویلتھ گیمز دلی کے جواہر لال نہرو سٹیڈیم میں رنگ و نور سے سجی ایک شاندار تقریب کے بعد ختم ہوگئے ہیں۔

اس اختتامی تقریب میں کامن ویلتھ گیمز کا پرچم سکاٹ لینڈ کے شہر گلاسگو کے حوالے کیا گیا ہے جہاں چار برس بعد یہ گیمز منعقد ہوں گے۔

کامن ویلتھ گیمز کے سربراہ مائیک فینل نے دلی سنہ دو ہزار دس کے ان گیمز کو ابتدائی مشکلات کے باوجود کامیاب قرار دیا ہے۔ ان گیمز کے آغاز سے قبل جن معاملات کو اجاگر کیا گیا تھا ان میں سکیورٹی، انتظامی ڈھانچہ اور چند دیگر ایشوز تھے لیکن جوں جوں دن گزرے، صورتِ حال بہتر ہوتی گئی اور اختتامی تقریب کی چکا چوند اور حسنِ انتظام کے نتیجے میں مقررین نے ان گیمز کو کامیابی سے تعبیر کیا۔

مائیک فینل نے کہا: ’یہ مقابلے بہت اچھے رہے ہیں، جہاں یہ گیمز ہوئے وہ جگہیں اعلیٰ معیار کی تھیں اور ایتھلیٹس خوش ہیں۔ہمیں کئی معاملات سے نمٹنا پڑا لیکن آخری نتیجہ اچھا رہا ہے۔‘

تاہم ان کا کہنا تھا کہ کھیلوں کی تیاریوں شیڈول سے آگے بڑھ جانے کی وجہ سے یہ گیمز دلی میں کرانے کے فیصلے پر کئی حلقوں کی جانب سے کئی سوال اٹھائے گئے تھے۔

’ایتھلیٹس ویلیج اور کچھ جگہات کے بارے میں حقیقی مسائل درپیش تھے جبکہ دیگر معاملات میں پیدل چلنے کے لیے پل ٹوٹنے، ٹکٹوں کے حوالے سے صورتِ حال کا غیر واضح ہونا، کھیلوں کو دیکھنے کے لیے شائقین کا کم تعداد میں آنا اور بڑے بڑے لوگوں کا اس ایونٹ میں شرکت کے فیصلے کو بدل دینا شامل ہے‘۔

تاہم انھوں نے کہا کہ دہلی ان گیمز کی میزبانی کا مستحق تھا اور اس نے ثابت کر دیا ہے کہ وہ حقیقی معنوں میں اس کا اہل بھی تھا۔

اسی بارے میں