ٹھاکرے کا نیا شیر، اور اصل کھیل اب

ٹھاکرے کی تیسری نسل اور مشترکہ مفاد

بال ٹھاکرے اپنے بیٹے اودھو کے ساتھ (فائل فوٹو)
Image caption بال ٹھاکرے کی پارٹی اکثر اپنے متنازعہ بیانات کے سبب سرخیوں میں رہتی ہے۔

اگر آپ کی کرکٹ میں دلچسپی ہے تو ’ٹائیگر‘ کے نام سے مشہور بال ٹھاکرے کا نام تو آپ نے سنا ہی ہوگا۔

نہیں، بال ٹھاکرے کرکٹر نہیں ہیں اور نہ کبھی تھے، ان کی وجہ شہرت ان کا منفرد انداز سیاست ہے اور ایک وقت تھا کہ ممبئی میں ان کے اشارے کے بغیر پتہ نہیں ہلتا تھا۔

جب جب ہندوستان اور پاکستان کے درمیان تعلقات میں کشیدگی پیدا ہوتی تو وہ پاکستانی ٹیم کو ممبئی میں نہ کھیلنے دینے کی دھمکی دے ڈالتے۔ پھر وہ بوڑھے ہوگئے اور ان کی سیاسی جماعت شو سینا کی باگ ڈور ان کے بیٹے اودھو کے ہاتھوں میں آئی جو پارٹی کو ٹھیک طرح سے سنبھال نہیں پائے، لہذا اودھو کے بوڑھے ہونے سے پہلے ہی بالا صاحب نے اب اپنے پوتے آدتیہ کو میدان میں اتار دیا ہے۔

شیر کے نشان والی اس پارٹی کی مقبولیت کم ہو رہی ہے یہ سب مانتے ہیں، لیکن شاید اصل وجہ اودھو کی نااہلی نہیں بلکہ یہ ہے کہ کافی عرصے سے پاکستان سے کرکٹ کے رشتے معطل ہیں۔

بالا صاحب، بچوں کو سیاست سے الگ ہی رکھنا چاہیے چاہے وہ شیر کے ہی بچے کیوں نہ ہوں، بس اس مرتبہ پاکستانی ٹیم کو ہندوستان لانے کی کوشش کیجیئے، اس میں پاکستانی کرکٹ کا بھی بھلا ہے اور آپ کی سیاست کا بھی!

نتیش کمار کا من موہن سنگھ کو چیلنج

Image caption کانگریس پارٹی بہار انتخابات میں ووٹروں کو اپنی جانب رجوح کرنے کی کوشش کررہی ہے

بہار میں آجکل انتخابی سرگرمیاں پوری شدت سے جاری ہیں اور بڑے بڑے سیاسی رہنما وہاں کی خاک چھانتے پھر رہے ہیں۔

وہاں خاک چھاننا زیادہ مشکل کام بھی نہیں ہے کیونکہ بہار میں اکثر یہ فرق بتانا مشکل ہوتا ہے کہ سڑک کہاں ختم ہوئی اور کھیت کہاں سے شروع!

خیر، وزیر اعظم من موہن سنگھ بھی انتخابی مہم میں حصہ لے رہے ہیں اور ایک ریلی میں انہوں نے وزیر اعلی نتیش کمار پر مرکز کی فراہم کردہ امداد کو پوری طرح استعمال نہ کرنے کا الزام لگایا۔

جواب میں نتیش کمار نے وزیر اعظم کو آمنے سامنے کی بحث کے لیے چیلنج کیا ہے۔

نتیش کمار صاحب، وزیر اعظم اور وزیر اعلی کے منسب میں ذرا فرق ہوتا ہے، آخری گنتی تک ہندوستان میں ستائیس ریاستیں تھیں، اگر من موہن سنگھ بحث کے لیے مان بھی گئے تو آپکا نمبر اگلے الیکشن سے پہلے نہیں آئے گا۔

کھیل ختم، پیسہ ہضم؟

Image caption کامن ویلتھ کھیلوں کے لیے بھارت کی تعریف ہورہی ہے لیکن بدعنوانی کے الزامات کی انکوائری ابھی باقی ہے

دولت مشترکہ کھیلوں میں بدعنوانی کے الزامات کی تفتیش میں شدت آرہی ہے۔ روز نئے الزامات لگائے جا رہے ہیں اور آرگنائزنگ کمیٹی کے سربراہ سریش کلماڈی اور دلی کی وزیرِ اعلی شیلا دکشت کے درمیان الفاظ کی جنگ چھڑی ہوئی ہے۔

دونوں ایک دوسرے پر کیچڑ اچھال رہے ہیں۔ پہلے لگ رہا تھا کہ شاید کھیلوں کے ختم ہوتے ہی الزامات بھی ٹھنڈے پڑ جائیں گے لیکن ایسا ہوا نہیں۔

گیمز تو ختم ہوگئے ہیں لیکن لگتا ہے کہ اصل کھیل ابھی باقی ہے!

اسی بارے میں