قصاب کا ویڈیو کانفرنسنگ سے انکار

اجمل امیر قصاب
Image caption سیکورٹی کے خدشات کے سبب قصاب کو ممبئی کورٹ نہیں لایا جاتا ہے

ممبئی حملوں کے مجرم اجمل امیر قصاب نے اپنی پھانسی کی سزا کے خلاف دائر درخواست کی سماعت کے دوران ویڈیو کانفرنس کے ذریعہ عدالت میں حاضر رہنے سے انکار کر دیا ہے۔

گزشتہ روز انہوں نے جسٹس رنجنا دیسائی سے عدالت میں بذات خود حاضر رہنے کی اپیل کی تھی جسے جسٹس دیسائی نے مسترد کر دیا تھا۔

بدھ گیارہ بجے عدالتی کارروائی شروع ہوئی تو آرتھر روڈ جیل کے پولیس سب انسپکٹر کاکڑے نے عدالت کو مطلع کیا کہ قصاب ویڈیو کانفرنسنگ کے ذریعے حاضر رہنے سے انکار کر رہے ہیں۔

جسٹس دیسائی نے کاکڑے سے کہا کہ وہ قصاب پر کسی طرح کا دباؤ نہ ڈالیں۔

جسٹس دیسائی نے قصاب کے وکیل امین سولکر کو گزشتہ روز قصاب کو سمجھانے کے لیے کہا تھا۔

سولکر نے عدالت کو مطلع کیا کہ وہ گزشتہ روز جیل ضرور پہنچے تھے لیکن ساڑھے چھ بجے کے بعد جیل سپرنٹینڈینٹ نے انہیں قصاب سے ملنے کی اجازت نہیں دی۔ ان کا کہنا تھا کہ جیل میں قیدیوں سے ملاقات کا وقت ختم ہو گیا ہے۔

جسٹس دیسائی نے سولکر سے کہا کہ وہ قصاب سے ملاقات سے قبل عدالت کا حکم نامہ ساتھ لے جائیں۔ سولکر اب قصاب سے جمعرات کے روز ملاقات کریں گے۔

قصاب کو خصوصی عدالت نے چھ مئی کو پھانسی کی سزا سنائی تھی۔ اس سزا کی توثیق کی سماعت ممبئی ہائی کورٹ میں جاری ہے۔ قصاب کو درپیش خطرات اور ان کی سکیورٹی کی وجہ سے انہیں عدالت میں حاضر کرنے کے بجائے جیل سے ویڈیو کانفرنسنگ کے ذریعے انہیں عدالتی کارروائی کے دوران حاضر رکھا جاتا ہے۔

قصاب نے منگل کے روز ہنگامہ کیا اور کہا کہ وہ اس طرح نہیں بلکہ بذات خود عدالت میں حاضر رہنا چاہتے ہیں۔ عدالت سے ان کی اس اپیل مسترد کیے جانے کے بعد انہوں نے کیمرے پر تھوک دیا تھا۔ ججوں نے ان کے اس رویہ پر سخت اعتراض کیا تھا اور ان کے وکیل سولکر کو انہیں سمجھانے کی ہدایت دی تھی۔

قصاب نے جسٹس رنجنا دیسائی سے کہا تھا کہ یہ جگہ رہنے کے لائق نہیں ہے۔ قصاب نے یہ بھی کہا تھا کہ انہیں امریکہ کے حقوق انسانی عدالت میں بھیج دیا جائے۔

پیر اٹھارہ اکتوبر سے ممبئی ہائی کورٹ کی ڈیویژن بینچ کے سامنے مقدمہ کی سماعت جاری ہے اس وقت سرکاری وکیل اجول نکم اپنے دلائل پیش کر رہے ہیں جس میں وپ عدالت کو قصاب اور ان کے ساتھی ابو اسماعیل کے ذریعہ کاما ہسپتال کے پاس کی گءی فاءرنگ کا ذکر کر رہے تھے۔

ان کے دلائل پیش کرنے کے بعد قصاب کے وکلائ قانونی نکات پیش کریں گے۔ وکلائ کے مطابق دو سے تین ماہ میں کاررواءی ختم ہو گی اور عدالت اپنا فیصلہ سنائے گی۔

اسی بارے میں