پی ایچ ڈی کا سو سالہ طالبعلم

بھولارام داس
Image caption بھولارام کے بیٹے نے پچپن برس کی عمر میں پی ایچ ڈی مکمل کی تھی

ہندوستان کی ریاست مغربی بنگال کے شہر کولکتہ سے تعلق رکھنے والے ایک سو سالہ شخص نے پی ايچ ڈی کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔

گزشتہ ہفتے بھولارام داس کا سوواں جنم دن تھا اور اسی موقع پر انہوں نے ریاست آسام کی گوہاٹی یونیورسٹی میں پی ایچ ڈی میں داخلہ لیا ہے۔

بھولارام داس کا کہنا ہے ’اگر میرا بیٹا 55 برس کی عمر میں پی ایچ ڈی کرسکتا ہے تو میں سو برس کی عمر میں کیوں نہیں کرسکتا‘۔

بھولارام داس انگریزوں کے خلاف لڑائی اور ہندوستان کی آزادی کی تحریک میں شامل تھے اور 1930 میں انگریزوں کی مخالفت کرنے کے الزام میں انہیں جیل جانا پڑا تھا۔ سنہ 1971 میں ریٹائر ہونے سے قبل بھولارام نے ایک ٹیچر، وکیل اور جج کی حیثیت سے کام کیا ہے۔

بھولارام انیس برس کے تھے جب انہیں انگریزوں کے خلاف آواز اٹھانے کے الزام میں دو مہینے کے لیے جیل جانا پڑا تھا۔ جیل سے رہا ہونے کے بعد بھولارام نے کامرس اور وکالت کی تعلیم مکمل کی اور بعد میں کانگریس پارٹی میں شامل ہوگئے۔

بھولارام نے بی بی سی کو بتایا کہ انہیں خوشی ہے کہ وہ دوبارہ تعلیم حاصل کر سکیں گے۔ ’سنہ 1930 میں جب میں نے ایم اے کی تعلیم مکمل کی تھی تب سے میرے ذہن میں یہ بات تھی کہ میں پی ایچ ڈی کی تعلیم مکمل کروں گا لیکن اس وقت میں ایسا نہیں کر سکا تھا‘۔

پی ایچ ڈی مکمل کرنے کے لیے بھولارام کو فیلڈ ریسرچ کرنی ہوگی، لوگوں کے انٹریو کرنے ہوں گے اور پھر تھیسسز لکھنا ہوگا۔ لیکن اس سب سے بھولارام ڈر نہیں رہے ہیں اور ان کا کہنا ہے کہ وہ اپنے نام سے پہلے ’ڈاکٹر‘ لگانے کے لیے بے تاب ہیں۔

بھولارام کے گھروالوں نے گوہاٹی یونیورسٹی میں ان کے داخلے کی عرضی دی تھی۔ یونیورسٹی انتظامیہ نے پہلے تو ان کی عرضی کو نہیں مانا لیکن بعد میں انہیں اپنا فیصلہ بدلنا پڑا۔

بھولارام کے گھروالوں نے ذمہ داری لی ہے کہ وہ ان کی پی ایچ ڈی میں انکی مدد کریں گے۔ بھولارام کے پوتے ابھینو داس کا کہنا ہے کہ پہلے تو انہوں نے اس بات کو سنجیدگی سے نہیں لیا کہ ان کے دادا اس عمر میں پی ایچ ڈی کریں گے لیکن بعد میں جب انکے والد نے دادا کے فیصلے کے بارے میں بتایا تو انہیں یقین نہیں آیا۔

اسی بارے میں