نکسل وادیوں کی تین روزہ ہڑتال

فائل فوٹو
Image caption نکسلائٹ میں لڑنے والوں میں عورتیں بھی شامل ہیں

مہاراشٹر میں نکسلیوں کے زیر اثر علاقے گڈچرولی میں پولیس کارروائی کے دوران سکول کے طلباء سمیت چار افراد کی ہلاکت کے بعد تین روزہ بند یعنی ہڑتال کا اعلان کیا گیا ہے۔

گڈچرولی پولیس سے ملنے والی اطلاع کے مطابق کورچی تعلقہ میں جھگڑواہی گاؤں میں نکسلیوں نے گزشتہ شب پانی کے ٹینکر ، ایک ٹرک اور دو ٹریکٹرز کو آگ لگا دی۔

پولیس کے مطابق حالات قابو میں ہیں اور کسی بھی قسم کی واقعہ نہیں ہوا ہے۔

آٹھ اکتوبر کو نکسلیوں کے خلاف جاری آپریشن میں دھنورہ ٹاؤن کے قریب سوارگاؤں میں واقع سکول آشرم پر دستی بم گرے۔ اس بم حملے میں عمارت تباہ ہوگئی تھی۔ سکول کے پانچ اور سات سال کے دو بچوں سمیت چار افراد ہلاک اور دس طلباء زخمی ہوئے تھے۔

پولیس نے نکسلیوں کے اُس حملے کے خلاف جوابی کارروائی کی تھی، جس میں نکسلیوں نے چار پولیس اہلکاروں کو ہلاک کر دیا تھا۔

قبائلیوں کے حقوق کے لڑنے والی مقامی تنظیم بِرسا سینا نے گزشتہ روز قبائیلیوں کی فلاح و بہبود کے ریاستی وزیر ببن راؤ پاچپوتے کے قافلے کو روک کر ہلاک ہونے والوں کے ورثاء کو پانچ لاکھ روپے دینے کا مطالبہ کیا تھا۔ جس کے بعد حکومت نے ورثاء کو معاوضہ دینے کا اعلان کیا ہے۔

مہاراشٹر کا گڈچرولی علاقہ نکسل تحریک کا گڑھ ہے۔

اسی بارے میں