عدالتی حاضری، قصاب ہائیکورٹ جائیں گے

اجمل امیر قصاب
Image caption ممبئی ہائی کورٹ میں موت کی سزا کی توثیق کے لیے سماعت چل رہی ہے

ممبئی حملوں کے مجرم اجمل امیر قصاب عدالت میں ذاتی طور پر حاضر رہنا چاہتے ہیں جس کے لیے ان کے وکلاء اب ہائی کورٹ میں اپیل داخل کریں گے۔

خصوصی عدالت سے موت کی سزا کی توثیق کے لیے ممبئی ہائی کورٹ کی جسٹس رنجنا دیسائی اور جسٹس آر وی مورے کی ڈیویژن بینچ کے سامنے سماعت جاری ہے۔

ابھی قصاب کو ویڈیو کانفرنسنگ کے ذریعہ عدالت میں حاضر کیا جاتا ہے۔

قصاب کے وکیل امین سولکر اور ایڈوکیٹ فرحانہ شاہ نے عدالت کی اجازت کے بعد گزشتہ شام قصاب سے آرتھر روڈ جیل میں ملاقات کی اور انہیں ان کے خراب برتاؤ کے لیے سمجھانے کی کوشش کی لیکن قصاب اس بات پر بضد ہیں کہ انہیں شخصی طور پر عدالت میں حاضر رہنا ہے۔

سولکر نے بی بی سی کو بتایا کہ قصاب کو یہ سمجھانے کی کوشش کی گئی کہ ان کی جان کو خطرہ لاحق ہے اسی لیے انہیں یہاں سے نکال کر عدالت میں لےجانا مشکل ہے لیکن قصاب کچھ سمجھنے کے لیے تیار نہیں ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ انہوں نے قصاب کو یہ سمجھانے کی بھی کوشش کی تھی کہ عدالت میں حاضر رہنے کی اپیل پہلے ہی عدالت مسترد کر چکی ہے لیکن قصاب دوبارہ اپیل کے لیے ضد کر رہے ہیں۔

Image caption قصاب کو نچلی عدالت نے موت کی سزا سنائی ہے

سولکر کے مطابق قصاب نے کہا کہ اگر انہیں عدالت میں نہیں لے جا سکتے تو پھر انہیں امریکہ میں حقوق انسانی عدالت کے سپرد کر دیا جائے۔ سولکر نے حیرت ظاہر کی کہ آخر قصاب کو امریکہ اور حقوق انسانی کی بابت کیسے معلوم ہوا۔

اٹھارہ اکتوبر کو سزا کی توثیق کی سماعت کے پہلے دن کی کارروائی میں قصاب ویڈیو کانفرنس کے ذریعہ عدالت میں حاضر ہوئے اور اس وقت وہ کافی خوش تھے لیکن پھر کچھ ہی دیر بعد انہوں نے عدم دلچسپی ظاہر کی۔

منگل کے روز انہیں کچھ سنائی نہیں دے رہا تھا اس لیے انہوں نے جیل کے اہلکاروں سے شکایت کی لیکن جب انہوں نے کچھ توجہ نہیں دی تب قصاب نے کیمرے پر تھوک دیا تھا۔

قصاب بدھ کے روز ویڈیو کانفرنس کے ذریعہ حاضر نہیں ہوئے۔ جمعرات کو قصاب کچھ دیر کے لیے سامنے آئے لیکن پھر کچھ ہی دیر بعد واپس چلے گئے۔

اس دوران سرکاری وکیل اجول نکم عدالت میں قصاب کو پھانسی کی سزا سنائے جانے کے جواز میں دلائل پیش کر رہے ہیں۔ وکلاء کے مطابق دو سے تین ماہ تک یہ مقدمہ جاری رہے گا جس میں خود کو بے قصور ثابت کرنے کی قصاب کی اپیل بھی شامل ہے۔

اسی بارے میں