بہار انتخابات، دوسرے مرحلہ، پولنگ جاری

بہار انتخابات
Image caption شہری علاقوں میں ووٹنگ کی رفتار سست ہے

بہار اسمبلی انتخابات کے دوسرے مرحلے میں اتوار کو ووٹنگ جاری ہے۔ اس مرحلے میں بہار کے چھ اضلاع میں پینتالیس سیٹوں پر ووٹنگ ہورہی ہے۔

.جن چھ اضلا‏ع میں پولنگ ہورہی ہے وہ ہیں دربھنگا( دس سیٹیں) سیتھامڈھی( آٹھ سیٹیں)، سمستی پور( دس سیٹیں)، مظفرپور( آٹھ سیٹیں)، مشرقی چمپارن( آٹھ سیٹیں) اور شیوہر( ایک سیٹ)۔

بہار میں موجود بی بی سی کی نامہ نگار روپا جھا نے بتایا ہے کہ نکسلیوں کے اثرو رسوخ والے علاقے سیتھامڈھی اور شیوہر میں ووٹرز کی لمبی قطاریں ہیں۔ لیکن شہری علاقوں میں ووٹنگ سست رفتار سے ہورہی ہے۔

ابھی تک ووٹنگ پرامن طریقے سے جاری ہے۔ صرف سیتامڈھی کے رونی سعیدپور علاقے سے بیلٹ پیپر پھاڑنے کی خبریں ہیں جس کی وجہ سے وہاں وقت پر ووٹنگ شروع نہیں ہو پائی۔

اس مرحلے میں تقریباً اٹھانوے لاکھ ووٹرز ووٹ ڈالیں گے اور چھ سو تئیس امیدواروں کی قسمت کا فیصلہ کریں گے۔ووٹنگ کے دوران سبھی پولنگ سٹیشنز پر سخت سکیورٹی ہے اور بیشتر پولنگ سٹیشنز پر سینٹر ریزرو فورس کے جوانون کو تعینات کیا گیا ہے۔ احتیاط کے طور پر نیپال سے متصل بارڈرز کو سیل کردیا گیا ہے۔ .

.اس مرحلے میں کئی بڑے لیڈروں کی قسمت کا فیصلہ ہوگا۔ ان میں جو اہم لیڈر ہیں وہ ہیں راشٹریہ جنتا دل کے سینئر لیڈر عبدالباری صدیقی، جنتادل یونائیٹڈ کے بہار سیکرٹری وجے کمار چوہان اور جنتا دل یونائیٹڈ کے ہی رام ناتھ ٹھاکر۔

بہار اسبملی کی کل دو سو تینتالیس سیٹیں ہیں۔ پہلے دور میں تقریباً ایک کروڑ سات لاکھ ووٹرز نے اپنا حق رائے دہی استعمال کیا اوراس مرحلے کی سینتالیس سیٹوں کے لیے کل چھ سو اکتیس امیدوار میدان میں تھے۔

انتخابات میں اہم مقابلہ ریاست کے حکمراں این ڈی اے اتحاد، لالو پرساد کی آر جے ڈی اور رام ولاس پاسوان کے اتحاد اور کانگریس کےدرمیان ہے۔

نتیش کمار کی جماعت جنتا دل یو اور بھارتیہ جنتا پارٹی این ڈی اے اتحاد کا حصہ ہیں۔ کانگریس کسی بھی اتحاد میں شامل نہیں ہے جبکہ لالو پرساد نے رام ولاس پاسوان کی جماعت لوک جن شکتی سے اتحاد کیا ہے۔کانگریس کے امید وار تنہا سبھی جماعتوں سے انتخاب لڑ رہے ہیں۔

اسی بارے میں