باجوڑ ایجنسی: دو سکول تباہ

تباہ سکول کی فائل فوٹو
Image caption تباہ ہونے والے دونوں لڑکوں کے پرائمری سکول تھے

پاکستان کے قبائلی علاقے باجوڑ ایجنسی میں حکام کا کہنا ہے کہ نامعلوم شدت پسندوں نے دو سرکاری سکولوں کو بارودی دھماکوں سے تباہ کردیا ہے۔

مقامی انتظامیہ کے ایک اہلکار نے بی بی سی کو بتایا کہ سنیچر اور اتوار کی درمیانی شب باجوڑ ایجنسی کے صدر مقام خار کے علاقے مانوگی ماندل میں نامعلوم مُسلح افراد نے دو سرکاری سکولوں کے عمارتوں میں باردوی مواد نصب کرکے زوردار دھماکے کیے جس کے نتیجہ میں دونوں سکولوں کے عمارتیں تباہ ہوگئی ہیں۔

تباہ ہونے والے دونوں سکول لڑکوں کے پرائمری سکول تھے جو ایک دوسرے کے قریب واقع تھے۔

اہلکار نے پشاور میں نامہ نگار دلاورخان وزیر کو بتایا کہ اس واقعہ کے بعد مقامی انتظامیہ نے سلارزئی سے ملنے والے تمام راستوں پر لیویز اور خاصہ دار فورس کے درجنوں اہلکاروں کو تعینات کیاگیا ہے جو آنے جانے والوں کی تلاشی لی جارہی ہے۔

سرکاری اعداد شمار کے مطابق باجوڑ ایجنسی میں اب تک سو کے قریب لڑکوں اور لڑکیوں کے سکولوں کو تباہ کیا جاچکا ہے اور گزشتہ دو سالوں سے باجوڑ ایجنسی کے مختلف علاقوں میں سکول بند ہونے وجہ سے بچے اور بچیاں تعلیم کے حصول سے محروم ہیں۔

اس واقعہ سے ایک دن پہلے ایک اور قبائلی علاقے خیبر ایجنسی کے علاقے باڑہ میں لڑکوں کے ایک ڈگری کالج پر بارودی دھماکے سے حملہ ہوا تھا جس کے نتیجہ میں کالج کے ایک کمرے کو نقصان پہنچا تھا۔

ادھر خیبر پختونخوا کے ضلع سوات میں حکام کے مطابق سکیورٹی فورسز نے شدت پسندوں کے خلاف کارروائی کی ہے جس کے نتیجہ میں پانچ شدت پسند مارے گئے ہیں۔

سوات میں ایک اعلی سرکاری اہلکار نے بی بی سی کو بتایا کہ اتوار کو سوات کے دو مختلف مقامات پر سکیورٹی فورسز کے اہلکاروں نے اس وقت کارروائی کی جب سکیورٹی فوسز کو مُسلح شدت پسندوں کی موجودگی کی اطلاع ملی۔

انہوں نے کہا کہ کارروائی کے دوران مُسلح شدت پسندوں نے مزاحمت شروع کی تو سکیورٹی فورسز کی جوابی کارروائی میں پانچ شدت پسند مارے گئے ہیں۔

اہلکار کے مطابق شدت پسندوں کی فائرنگ سے سکیورٹی فورسز کے دو اہلکار زخمی ہوگئے ہیں۔

انہوں نے بتایا کہ گجر بنڈ کے علاقے میں تین جبکہ تحصیل مٹہ کے علاقے خریڑئی میں دو شدت پسندوں کو ہلاک کیاگیا ہے لیکن ہلاک ہونے والوں میں کسی اہم کمانڈر کے شامل ہونے کی اطلاع نہیں ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ کارروائی کے دوران پورے علاقے کو گھیرے لے لیا تھا اور کسی کو آنے جانے کی اجازت نہیں تھی۔

اسی بارے میں