مالدار ترین شخص کامہنگا ترین مکان

انٹیلیا
Image caption مکیش امبانی کا یہ مکان ستائس منزل کا ہے

بھارت کے صنعتی شہر ممبئی میں ملک کے امیر ترین شخص مکیش امبانی کے مکان کے بہت تذکرے ہو رہے ہیں جو اٹھائیس اکتوبر کو بعض خاص لوگوں کے لیے کھولا جائے گا۔

مکیش امبانی کا یہ مکان ستائیس منزلہ ہے جس کا نام انٹیلیا ہے۔ یہ ممبئی کے مہنگے ترین علاقے ایلٹا ماؤنٹ روڈ پر تعمیر کیا گیا ہے۔

جو لوگ ممبئی جاتے ہیں اس مکان کو دیکھنے کے لیے آتے ہیں اور وہاں کے مقامی لوگ بھی اسے دیکھنے جاتے ہیں۔

اس کی تعمیر پر کتنا پیسہ خرچ کیا گیا ہے اس بارے میں حتمی طور پر کچھ بھی نہیں بتایا گیا لیکن کہا جارہا ہے کہ یہ دنیا کا سب سے مہنگا مکان ہے۔ اطلاعات کے مطابق اس مکان کی تعمیر میں ایک ارب امریکی ڈالر سے بھی زیادہ کی رقم خرچ کی گئی ہے۔

امریکہ کے بل گیٹس اور دنیا کے دیگر امیروں کے مکانات سے بھی یہ بہت مہنگا بتایا جارہا ہے۔

Image caption مکیش امبانی بھارت کے امیرترین شخص ہیں

مکان صرف ایک خاندان کے چھ افراد کے لیے تعمیر کیا گیا ہے جس میں مکیش امبانی کی بیوی ان کے تین بچے اور ان کی ماں شامل ہیں۔

اطلاعات ہیں کہ اس مکان کی دیکھ بھال کے لیے چھ سو ملازمین بھی اس میں کام کریں گے اور سب سے اوپر کی چار منزلوں پر امبانی خاندان رہائش پذیر ہوگا۔

مکان چالیس ہزار فٹ سے بھی زیادہ رقبے پر بنا یا گیا ہے۔ اس میں آرام گاہ، جم، یوگا اور ڈانس سٹوڈیو، بال روم، مہمان خانے، پچاس سیٹوں والا فلم تھیئٹر، ہیلی کاپٹر اترنے کے لیے تین ہیلی پیڈ اور ڈیڑھ سوگاڑیاں کھڑی کرنے کی پارکنگ جیسی بہت سی سہولیات ہیں۔

اس مکان میں نو لفٹس لگی ہیں جن میں سے دو امبانی خاندان کے لیے ہیں وقف ہوں گی جبکہ باقی مہمانوں کے لیے وقف ہیں۔

اس میں میٹنگ ہال بھی ہے جس میں بڑے وفود سے خطاب کیا جا سکتا ہے۔ کچن اتنا بڑا ہے کہ اس میں کئی سو افراد کے لیے کھانا پکایا جا سکتا ہے۔

اس کی اندرونی سجاوٹ کے لیے امریکی کمپنی سے مدد لی گئی ہے تاہم اندر کا نظارہ بھارتی فن کا منظر پیش کرتا ہے۔

مکان کی سب سے اوپر کی منزل سے بحیرۂ عرب کی لہریں دیکھی جا سکتی ہیں کیونکہ یہ سمندر سے قریب بھی ہے۔

امبانی خاندان کا کوئی بھی فرد اس مکان کے بارے میں کچھ بھی کہنے سے گریز کرتا ہے۔ البتہ مکیش کی بیوی نیتا امبانی نے اس طرح کی باتیں کہیں ہیں کہ میڈیا اس گھر کی قیمت کے متعلق بڑھ چڑھا کر باتیں کر رہا ہے۔

اسی بارے میں

متعلقہ انٹرنیٹ لنکس

بی بی سی بیرونی ویب سائٹس کے مواد کا ذمہ دار نہیں