ممبئی: ماں نے ڈیڑھ برس کی بچی پھینک دی

ایک بچے کی فائل فوٹو
Image caption بچی کو کوڑے میں پایا گیا۔ بعد میں اس کی موت ہوگئی

ممبئی کے کے ای ایم ہسپتال کے اہلکاروں کا کہنا ہے کہ ہسپتال میں داخل ایک خاتون نے اپنی ڈیڑھ ماہ کی بچی کو کھڑکی سے پھینک دیا ہے۔

خاتون کا نام دپیکا پرمار بتایا گیا ہے جس کی عمر تقریباً تیس برس ہے۔ گزشتہ ماہ دیپیکا پرمار جڑواں بچے پیدا ہوئے تھے جن میں ایک لڑکا اور ایک لڑکی شامل تھے۔

دیپکا کے بچے وقت سے پہلے پیدا ہوگئے تھے اور انہیں سانس لینے میں پریشانی تھی اور اسی لیے ان کے بچے ہسپتال میں داخل تھے۔

ہسپتال اہلکاروں کے مطابق گزشتہ صبح خاتون نے شور مچانا شروع کردیا کہ ان کی لڑکی کو کسی نے چرا لیا ہے۔

لیکن جب ہسپتال کے وارڈ میں لگے کمیرے کی فوٹیج کو دیکھا گیا تو معلوم ہوا کہ خود دیپیکا نے اپنی لڑکی کو بیت الخلاہ کی کھڑکی سے باہر پھینک دیا ہے۔

ہسپتال کے ڈپٹی ڈین ڈاکٹر نارائن بھونسلے نے بی بی سی کو بتایا کہ اس بات میں کوئی شک نہیں ہے کہ ویڈیو فوٹیج میں جو خاتون ہے وہ دیپیکا ہی ہے۔

انہوں نے کہا ’بچی کا وزن قریب ایک کلو تھا۔ بچی کو بیت الخلاء کے باہر پڑے کوڑے سے برآمد کیا گیا۔ بچی کے سر پر چوٹ تھی اور اس کا ایک کان چوہے نے کھا لیا تھا۔ ہم نے علاج کرنے کی کوشش کی لیکن تین چار گھنٹے بعد اس کی موت ہوگئی۔‘

ادھر دیپیکا کا کہنا ہے کہ ان کے ہاتھ سے غلطی سے بچی کھڑکی سے باہر گر گئی۔

دیپیکا کو بھوئی واڈا پولیس سٹیشن کے حوالے کردیا گیا ہے۔

بھوئی واڈا کے سینئیر پولیس انسپکٹر وکرم پاٹل سے رابطہ نہیں ہوسکا لیکن انہوں نے انڈین ایکسپریس اخبار کو بتایا ہے کہ دپیکا کے خلاف کیس درج کرلیا گیا ہے۔

یہ ایک اس معاملہ ہے جو ہندوستان میں اس سوچ کی عکاسی کرتا ہے جس کے تحت لڑکوں کو لڑکیوں سے زیادہ ترجیج دی جاتی ہے۔ اسی سوچ کی وجہ سے ہندوستان کی کئی ریاستوں جیسے پنجاب، بہار، ہریانہ اور اترپردیش میں لڑکوں کی بنسبت کم لڑکیاں ہیں۔

ایک رسرچ کے مطابق ان ریاستوں کے شہری علاقوں میں لڑکیوں کو پیدائش سے پہلے مارنے کے واقعات زیادہ سامنے آتے ہیں۔

اسی بارے میں