بہار میں تیسرے مرحلے کے انتخابات

فائل فوٹو
Image caption پولنگ مراکز پر سکیورٹی کے سخت انتظامات ہیں

بہار میں ریاستی اسمبلی کے انتخابات کے لیے تیسرے مرحلے میں چھ ضلعوں کی اڑتالیس سیٹوں کے لیے ووٹ ڈالے جا رہے ہیں۔

مختلف پولنگ مراکز پر صبح ہی سے رائے دہند گان کی لمبی قطاریں دیکھی گئی ہیں۔

بہار میں اس سے پہلے دو مرحلے کی پولنگ ہوچکی ہے اور جمعرات کو تیسرے مرحلے میں اڑتالیس سیٹوں پر مجموعی طور پر سات سو پچاسی امید واروں کا فیصلہ ہوگا۔

ریاست بہار کے بعض علاقوں ميں ماؤنواز باغیوں کا اثر ہے اس لیے حساس علاقوں میں سکیورٹی کے خصوصی انتظامات کیے گئے ہیں۔

دوسرے مرحلے کے انتخابات کے دوران کئی جگہوں پر تشدد کے واقعات رونما ہوئے تھے۔

ریاست اترپردیش اور نیپال سے ملتی بہار کی سرحد کو سیل کر دیا گیا ہے اور کئی جگہوں پر اضافی سکیورٹی فورسز کو تعینات کیا گیا ہے۔

اس بار کے انتخابات میں تقریباً چھہتر لاکھ لاکھ رائے دہندگان اپنے حق رائے دہی کا استعمال کریں گے۔

تیسرے مرحلے میں مغربی چمپارن کی نو، مشرقی چمارن کی سات، گوپال گنج کی چھ، سیوان کی آٹھ سارن کی دس اور ویشالی کی آٹھ سیٹوں کے لیے انتخابات ہورہے ہیں۔

ریاست کی سابق وزیر اعلی اور راشٹریہ جنتا دل کے رہنما لالو پرساد یادو کی بیوی رابڑی دیوی بھی میدان میں ہیں۔

محترمہ رابڑی دیوی رادھو پور اور سون پور کے دو حلقوں سے انتخاب لڑ رہی ہیں اس لیے ان حلقوں پر سب کی نگاہیں لگی ہوئی ہیں۔

اس سے پہلے اکیس اور چوبیس اکتوبر کو پہلے اور دوسرے مرحلے میں بانوے سیٹوں کے لیے ووٹ ڈالے جا چکے ہیں۔

اسی بارے میں