دلی کے کھیل:ٹھیکیداروں پر چھاپے

فائل فوٹو
Image caption کھیلوں میں بڑے پیمانے پر دھاندلی کے الزامات عائد ہوئے ہیں

دولت مشترکہ کے کھیلوں کے انعقاد میں بدعنوانی کےالزامات کی تفتیش کے دوران محکمہ انکم ٹیکس نے ملک بھر میں بعض ٹھیکیداروں کے تقریباً چالیس دفاتر پر چھاپے مارے ہیں۔

خبر رساں اداروں نے سرکاری ذرائع کے حوالے سے خبر دی ہے کہ تفتیش میں ان ٹھیکوں پر توجہ مرکوز کی جا رہی ہے جو کھیلوں کی انتظامی کمیٹی کی جانب سے دیے گئے تھے۔

جن شہروں سے چھاپوں کی اطلاعات ملی ہیں ان میں ممبئی، بنگلور، دلی اور اس کے آس پاس کے شہر اور ریاست جھاڑکھنڈ شامل ہیں۔

Image caption کھیلوں کا افتتاح اور اختتام شاندار تھا

اس سے پہلے محکمہ انکم ٹیکس نے انیس اکتوبر کو بھی کئی مقامات پر چھاپے مارے تھے۔ ان میں بی جے پی کے لیڈر سدھانشو متل کے دفاتر اور رہائش گاہ بھی شامل تھیں۔

سدھانشو متل نے بدعندوانی کے الزامات سے انکار کرتے ہوئے کہا ہے کہ انہیں سیاسی بنیادوں پر نشانہ بنایا جا رہا ہے۔ ابھی یہ واضح نہیں ہے کہ آیا ان چھاپوں میں محکمہ انکم ٹیکس کو کوئی ٹھوس معلومات حاصل ہوئی تھی یا نہیں۔

دولت مشترکہ کے کھیلوں میں بڑے پیمانے پر بدعنوانی کے الزامات کے بعد وزیر اعظم من موہن سنگھ نے تفتیش کے لیے ایک اعلیٰ سطحی کمیٹی تشکیل دی تھی جو تین مہینے کے اندر اپنی رپورٹ پیش کرے گی۔

اس کے علاوہ مرکزی تفتیشی بیورو، انفورسمنٹ ڈائریکٹوریٹ اور سنٹرل ویجیلینس کمیشن جیسے ادارے بھی اپنے طور پر مختلف الزامات کی تفتیش کر رہے ہیں۔

ادھر دلی کی حکومت نے وزیر اعظم کی قائم کردہ کمیٹی سے کہا ہے کہ وہ صرف ان منصوبوں کی تفتیش کرے جن کا براہ راست دولت مشترکہ کھیلوں سے تعلق تھا۔

حکومت کے چیف سیکریٹری کے مطابق ان منصوبوں کی تفتیش نہیں کی جانی چاہیے جن کی صرف رفتار کھیلوں کی وجہ سے بڑھا دی گئی تھی لیکن جو صرف کھیلوں کی وجہ سے تعمیر نہیں کیے جا رہے تھے۔

ریاستی حکومت نے اس مشورے کا جواز یہ کہہ کر پیش کیا ہے کہ کمیٹی کے پاس صرف تین مہینے کا وقت ہے اور اور اس مدت میں پچاس سے زیادہ منصوبوں کی چھان بین ممکن نہیں ہے۔

اسی بارے میں