کشمیر پر تھنک ٹینک، دانشور کیا کہتے ہیں؟

بھارت کے زیرانتظام کشمیرمیں جاری شورش اور امریکی صدر براک اوباما کے بھارت کے دورے کے تناظر میں بی بی سی اردو سروس نے بعض اہم تھنک ٹینکنس اور دانشوروں سے بات کرکے یہ جاننے کی کوشش کی ہے کہ وہ کشمیر میں جاری آزادی کی موجودہ تحریک، عالمی برادری کے کردار اوراس مسئلے کو حل کرنے کے بارے میں ان کی سوچ کیا ہے۔

امریکی تھنک ٹینک ہیریٹیج فاؤنڈیشن سے وابستہ لیزا کرٹس، جارج ٹاون یونیوورسٹی سے وابستہ رابرٹ ورسنگ، کشمیر سٹڈی گروپ اور امریکی صدر اوباما کے مشیر برائےجنوب مشرق ایشیائی امور فاروق کاٹھواری، ٹفٹس میں تاریخ کی پروفیسر ڈاکٹر عائشہ جلال، جامعہ ملیہ اسلامیہ کے وائس چانسلر اور برصغیر کی تاریخ کے استاد پروفیسر مشیر الحسن، معروف وکیل اور انسانی حقوق کے معروف کارکن گوتم نولکھا اور بھارتی سپریم کورٹ کے آئینی امور کے ماہر راجیو دھون ، ووڈرو ولسن سے وابستہ ڈینس ککس اور اقوام متحدہ کے سیکرٹیری جنرل کے سابق مشیر یوسف بچھ نے کشمیر کے مخلف پہلوؤں پر بات کی ہے۔

یہ انٹرویوز یکم نومبر سے بی بی سی اردو سروس کے پروگرام جہاں نما اور سیربین میں نشر کئے جائیں گےاور اِن انٹرویوز کی روشنی میں ہم کشمیر کے بعض دانشوروں سے پھر ایک مباحثہ بھی کررہے ہیں۔

اسی بارے میں