اشوک چوان کی مصیبت، اروندھتی رائے پر حملہ

معصوم فوجی، شاطر سیاست دان

اشوک چوان
Image caption اشوک چوان پر الزام ہے کہ انہوں نے اپنے رشتے داروں کو فلیٹس دلائے ہیں

ممبئی کی اس کثیر منزلہ عمارت کا ذکر تو آپ نے سنا ہی ہوگا جس کی وجہ سے اب کسی بھی وقت مہاراشٹر کی حکومت گر سکتی ہے۔ یہ اکتیس منزلہ عمارت جس کو آپریٹو سوسائٹی نےتعمیر کیا ہے وہ کارگل کی لڑائی میں ہلاک ہونے والے فوجیوں کے اہل خانہ کےنام پر بنائی گئی تھی اور اس میں فوج کے کئی اہلکاروں کے خلاف تفتیش کا سلسلہ شروع کیا جارہا ہے۔

جن لوگوں کو یہ فلیٹ ملے ان میں فوج کے دو سابق سربراہان اور ایک ایڈمرل بھی شامل ہیں جن کا دعویٰ ہے کہ انہیں یہ معلوم ہی نہیں تھا کہ یہ زمین کارگل کے متاثرین کےنام پر لی گئی تھی یا عمارت کی تعمیر میں کچھ گھپلہ تھا! انہوں نے اب اپنے فلیٹ لوٹانے کی پیش کش کی ہے۔

ہندوستانی سیاست دان بہت شاطر اور فوجی بہت معصوم ہوتےہیں۔ لیکن سر، آپ کتنے بھی معصوم ہوں، آٹھ کروڑ سے زیادہ کا فلیٹ کوڑیوں کے دام مل رہا تھا تو آپ کا ماتھا کیوں نہیں ٹھنکا؟ آخر سوسائٹی کی نظر کرم آپ ہی پر کیوں ہوئی؟

لگتا ہے فوج بھی آسانی سے سبق نہیں سیکھتی۔ کارگل کی لڑائی میں بھی یہ ہی ہوا تھا۔ جب پاکستانی درانداز کارگل کی پہاڑیوں میں مورچے قائم کر رہے تھے، تب بھی خبر ایک چرواہے سے ہی ملی تھی!

اروندھتی رائے کے اٹوٹ گملے

Image caption اروندھتی رائے کے دلی میں واقع گھر پر حملہ ہوا ہے

مصنفہ اروندھتی رائے متنازعہ معاملات پر متنازعہ بیانات دینے سے باز نہیں آتیں۔ انہوں نے جب سے کہا کہ کشمیر ہندوستان کا اٹوٹ حصہ نہیں ہے، ذرائع ابلاغ میں بڑے بڑے مبصر اروندھتی اور ان کے بیان، دونوں کو نظر انداز کرنے کا مشورہ دے رہے ہیں اور حکومت نے بھی کافی غور و خوض کے بعد ان کے خلاف بغاوت کا مقدمہ نہ قائم کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔

لیکن اتوار کو کچھ درجن مظاہرین نے ان کے گھر کے باہر توڑ پھوڑ کی۔ بتایا جاتا ہے کہ ان لوگوں کا تعلق دائیں بازو کی جماعتوں سے تھا۔انہوں نے ایک بات ثابت کردی۔ کشمیر ہندوستان کا اٹوٹ حصہ ہو نہ ہو، اروندھتی رائے کے گھر کے باہر رکھے گملے اٹوٹ نہیں ہیں!

اور اروندھتی ہیں کہ ان تک بھی خبر آسانی سے نہیں پہنچتی!

ساس سے بھی رشتے داری

Image caption اشوک چوان وزیر اعلی رہیں گے یا نہیں اس کا فیصلہ سونیا گاندھی کریں گی

وزیر اعلیٰ اشوک چوان کے بارے میں آپ کیا کہیں گے؟ ان کے کہنے پر جن لوگوں کو فلیٹ ملے، ان میں چوان کی ساس بھی شامل تھیں۔ لیکن چوان کہتے ہیں کہ ساس فیملی کا حصہ نہیں ہوتیں!

اسی بارے میں ایک اخبار نے کارٹون شائع کیا ہے جس میں کانگریس کی صدر سونیا گاندھی، جو چوان کے وزیر اعلیٰ رہنے یا نہ رہنے کے بارے میں حتمی فیصلہ کریں گی، انہیں ایک کلاس روم میں سختی سے سبق پڑھا رہی ہیں۔

دیوار پر سونیا کی ساس اندرا گاندھی کی تصویر ہے اور بلیک بورڈ پر لکھا

ہے:

ساس = رشتےدار!

اور سونیا چوان سے کہہ رہی ہیں: آپکو ریلیٹویٹی ( رشتہ داری؟) کی یہ تھیوری یاد کرنی چاہیے!

ان کی بات بھی صحیح ہے، کانگریس کی پوری سیاست بھی اسی تھیوری پرٹکی ہوئی ہے!

اسی بارے میں