کشمیر، دیوالی پر ہڑتال نہیں: گیلانی

سید علی شاہ گیلانی
Image caption کمشیر میں بھارت چھوڑو تحریک کی قیادت گیلانی کر رہے ہیں

بھارت کے زیرانتظام کشمیر میں قریب پانچ ماہ سے بھارت مخالف احتجاجی مہم کے روح رواں اور سخت گیر علحیدگی پسند رہمنا سید علی شاہ گیلانی نے دیوالی کے پیش نظر پہلے سے جاری کیا گیا احتجاجی پروگرام ملتوی کردیا ہے۔

ایک بیان میں گیلانی نے بتایا: ’ کشمیر کے پنڈت اور سکھِ باشندے ریاست کے اٹوٹ انگ ہیں، لہٰذا پانچ نومبر یعنی دیوالی کے روز کوئی ہڑتال نہیں ہوگی۔‘

گیلانی نے پچھلے ہفتے بارہ روزہ احتجاجی کیلینڈر جاری کیا تھا جس کے مطابق پانچ نومبر کو ہڑتال اور مظاہروں کی کال دی گئی تھی۔ کشمیر کی سِکھ کارڈینیشن کمیٹی نے ایک اخباری بیان میں مسٹر گیلانی سے اپیل کی تھی کہ وہ دیوالی کے تہوار کو نظر میں رکھتے ہوئے احتجاجی کیلنڈر پر نظر ثانی کریں۔

چنانچہ گیلانی کی قیادت والی حریت کانفرنس (گ) نے پانچ نومبر کا احتجاجی پرگرام ملتوی کر کے اس روز معمول کی سرگرمیاں بحال کرنے کی اپیل کی ہے۔

سِکھ کارڈینیشن کمیٹی نے مسٹر گیلانی کے فیصلہ کی ستائش کی ہے۔ کمیٹی کے ترجمان جگموہن سنگھ رینا نے بی بی سی کو بتایا : ’دو ماہ قبل جب سکھوں کو پراسرار پوسٹروں کے ذریعہ خوفزدہ کرنے کی کوشش کی گئی تو اس وقت بھی گیلانی صاحب نے کھلے عام کہا تھا کہ وہ اقلیتوں کو ہراساں کرنے کی کارروائیوں کو برداشت نہیں کرینگے۔‘

Image caption کشمیر میں گزشتہ چند ماہ سے صورت حال ابتر ہوچکی ہے

گیلانی نے اکیس اکتوبر کو نئی دلّی میں ایک سیمینار میں تقریر کے دوران جموں و کشمیر کی مکمل آزادی کا مطالبہ دہرایا اور ساتھ ہی کہا کہ ریاست میں آباد اقلیتوں کے حقوق کا پورا خیال رکھا جائے گا۔

ان کا کہنا تھا: ’ہم تو یہاں تک کہیں گے کہ غیر مسلموں کے شراب خانوں پر کسی نے شراب کی ایک بوتل بھی توڑ دی تو حکومت اس نقصانی کی تلافی کرے گی۔‘

سید علی شاہ گیلانی بیس برس قبل وادی چھوڑ کر چلےگئے کشمیری پنڈتوں کی واپسی کے حق میں ہیں۔ انہوں نے واضح کیا کہ اگر وہ اپنے گھروں کو لوٹنا چاہیں تو ان کی اور ان کی جائیداد کی ذمہ داری اکثریتی آبادی پر ہوگی۔

دریں اثنا نئی دلّی میں مقیم ایک کشمیری پنڈت نوجوان آدِتیہ راج کول نے گیلانی کے خلاف عدالت میں عرضی دی ہے جس میں گیلانی کے خلاف قانونی کارروائی کرنے کا مطالبہ کیا گیا ہے۔

گیارہ جون سے کشمیر میں جاری شورش کے دوران اب تک ایک سو گیارہ افراد مارے گئے اور سینکڑوں زخمی ہوگئے۔

یاد رہے کہ جون اور جولائی کے مہینوں میں بھارت کے مختلف حصوں سے آئے ساڑھے چار لاکھ ہندوؤں نے جنوبی کشمیر کی ایک پہاڑی پر واقع امرناتھ گھپا کے درشن کئے۔ اس دوران وادی بھر میں ہندمخالف مظاہرے اور تشدد جاری تھا، تاہم کسی بھی یاتری کو کوئی نقصان نہیں پہنچا۔

اسی بارے میں