امریکی پروفیسر دہلی داخلے پر پابندی

دلی ایئر پورٹ
Image caption مذکورہ پروفیسر کو ایئر پورٹ سے ہی امریکہ واپس کر دیا گیا

امریکہ کے ایک سرکردہ پروفیسر کو دلی کے ہوائی اڈے سے بظاہر اس لیے واپس بھیج دیا گیا کیونکہ ان کی بیوی بھارت کے زیر انتظام کشمیر میں حقوق انسانی کی پامالیوں کے خلاف آواز اٹھاتی رہی ہیں۔

جموں وکشمیر ’ کولیئشن فار سول سوسائٹی‘ کے مطابق پیر کو ہوائی اڈے پر امیگریشن کے حکام نے پروفیسر رچرڈ شپیرو کے پاسپورٹ پر پہلے تو داخلے کی اجازت کی مہر لگا دی لیکن جب انہوں نے ان کی اہلیہ انگنہ چٹرجی کا پاسپورٹ دیکھا تو پروفیسر شپیرو کے پاسپورٹ پر داخلے کی اجازت کی منسوخی کی مہر لگا دی۔

پرفیسر شیپرو سان فرانسسکو سے طویل سفر کے بعد دلی پہنچے تھے لیکن انہیں ہوائی اڈے سے ہی فورآ واپس امریکہ بھیج دیا گیا۔

محترمہ چٹرجی ’انٹر نیشنل پیپلز ٹرائییونل آن ہیومن رائٹس اینڈ جسٹس‘ سے وابستہ ہیں جو کشمیر میں حقوق انسانی کی پامالیوں کے خلاف آواز اٹھاتی رہی ہے۔

وہ کیلی فورنیا انسٹی ٹیوٹ آف انٹیگرل اسٹڈیز میں ثقافتی عمرانیات کی پروفیسر ہیں۔ اسی ادارے میں ان کے شوہر رچرڈ شپیرو بھی ثقافتی عمرانیات کے ایسو سی ایٹ پروفیسر ہیں۔

محترمہ چٹرجی نے سرینگر سے فون پر بی بی سی کو بتایا کہ ان کے شوہر کے پاس دس برس کا سیاحتی ویزا ہے اور انہوں نے کبھی بھی اپنے سیاحتی ویزے کی خلاف ورزی نہیں کی ہے۔

انہوں نے بتایا کہ جب امیگریشن حکام سے پروفیسر شپیرو کو ملک میں داخل ہونے کی اجازت نہ دینے کے بارے پوچھا گیا تو انہوں نے اس کا کوئی سبب نہیں بتایا اور جواب دیا کہ ’یہ پابندی غیر معینہ مدت کے لیے ہے ۔‘

محترمہ چٹرجی نے کہا کہ پروفیسر شپیرو نےحال ہی میں کشمیر میں حقوق انسانی کی صورتحال پر مقامی اخبارات میں دو تجزیاتی مضامین لکھے تھے اور بظاہرحکومت اس سے خوش نہیں تھی۔ انہوں نے کہا کہ ایک جمہوری ملک میں اس طرح کے اقدامات کی توقع نہیں کی جا سکتی۔

محترمہ چٹرجی امریکہ کی مستقل رہائشی ہیں اور ان کے شوہر شپیرو وہاں کے شہری ہیں۔ محترمہ انگنا چٹرجی نے کہاہے ’پروفیسر شپیرو کو ملک میں داخل نہ ہونے دینا کوئی علیحدہ واقعہ نہیں ہے۔ کشمیر کو علیحدہ اور دنیا سے کاٹ کر رکھنا حکومت کی حکمت عملی کا ایک اہم حربہ ہے۔‘

اسی بارے میں