انڈیا کو حساس ٹیکنالوجی کا انتظار

براک اوباما
Image caption انتخابات میں شکست کے بعدتوجہ معاشی ایجنڈہ پر ہوگی

امریکہ کے صدر براک اوباما ہندوستان کا دورہ شروع کرنے والے ہیں لیکن حکومت کو بظاہر ان کے دورے سے کسی بڑی یا فوری پیش رفت کی توقع نہیں ہے۔

اس کا اشارہ خود خارجہ سیکریٹری نروپما راؤ نے یہ کہتے ہوئے دیا کہ ’انڈیا کسی دھماکہ خیز نتیجے کی توقع نہیں کر رہا بلکہ اس دورے میں وہ باہمی تعلقات کے لیے ایک طویل المدتی سٹراٹیجک فریم ورک تیار کرنا چاہتا ہے‘۔

ہندوستان جن اہم معملات پر بات کرنا چاہتا ہے ان میں دہشت گردی، عالمی اقتصادی صورتحال، افغانستان میں اس کے مفادات ( جو اس کے خیال میں امریکہ کی نئی افغانستان/ پاکستان پالیسی کی وجہ سے متاثر ہوسکتے ہیں) اور پاکستان سے تعلقات شامل ہیں۔ بدلے میں امریکہ کو بنیادی طور پر اربوں ڈالر کے کاروبار کی تلاش ہے۔

تجزیہ نگاروں کے مطابق ہندوستان دہشت گردی کے مسئلے سے نمٹنے کے لیے زیادہ تعاون اور معلومات کے بہتر تبادلے کا خواہاں ہے اور اس بارے میں ڈیوڈ کولمین ہیڈلی کی مثال پیش کرےگا۔

چند روز پہلے ہی ہندوستان کے داخلہ سیکریٹری جے کے پلائے نے کہا تھا کہ اگر امریکہ نے ہیڈلی کے بارے میں بروقت معلومات فراہم کردی ہوتیں تو ممبئی پر حملوں سے پہلے نہیں تو کم سے کم بعد میں انہیں گرفتار کیا جاسکتا تھا۔

لیکن ہندوستان کو سب سے زیادہ انتظار ان پابندیوں کے ہٹائے جانے کا ہوگا جن کی وجہ سے وہ ایسی حساس ٹیکنالوجی سے محروم ہے جو جوہری ہتھیار بنانے کے لیے بھی استعمال کی جاسکتی ہے۔

یہ پابندیاں ہندوستان کے جوہری تجربات کےبعد لگائی گئی تھیں۔ سن دو ہزار آٹھ میں ہندوستان اور امریکہ کے درمیان سویلین جوہری معاہدہ ہوا تھا جس کے اطلاق کی راہ اب ہموار ہوگئی ہے اور ہندوستان نے معاوضہ کی ادائیگی کے بارے میں امریکی کمپنیوں کے خدشات دور کرنے کے لیے کئی اقدامات کیے ہیں۔

لیکن ہندوستان کے لیے ٹیکنالوجی تک رسائی ایک اہم مطالبہ ہے۔ ماہرین کے مطابق امریکہ نے جن پچیس ممالک کو دہرے استعمال والی ٹیکنالوجی کی فراہمی پر پابندی لگا رکھی ہے ان میں ہندوستان اس لحاظ سے سر فہرست ہے کہ اسے ٹیکنالوجی کے سولہ زمروں میں سے گیارہ تک رسائی حاصل نہیں ہے۔

ہندوستان کا موقف ہے کہ جہاں تک جوہری ٹیکنالوجی کے پھیلاؤ کا سوال ہے، اس کا دامن بے داغ ہے اور امریکہ نے کئی مرتبہ اس کا اعتراف بھی کیا ہے، لہذا یہ پابندیاں اب ہٹا لی جانی چاہئیں۔

تخمینوں کے مطابق دہرے استعمال والی ٹیکنالوجی میں سالانہ کاروبار آٹھ سو ارب ڈالر سے ایک کھرب ڈالر کے درمیان ہے اور اس میں سالانہ پانچ فیصد اضافہ ہو رہا ہے۔ اگر ہندوستانی صنعت کو اس ٹیکنالوجی تک رسائی حاصل ہوجاتی ہے تو ملک کی معیشت کو بھی بھرپور فائدہ پہنچ سکتا ہے۔

یہ بات وزیر اعظم من موہن سنگھ بھی کئی مربتہ کہہ چکے ہیں: ’ہمیں بڑے پیمانے پر صنعت کاری کی ضرورت ہے، ہندوستان کو جدید سائنس اور ٹیکنالوجی میں مہارت حاصل کرنی ہے۔۔۔لیکن دہرے استعمال والی ٹیکنالوجی پر عائد پابندیوں سے ہماری ترقی کی رفتار متاثر ہو رہی ہے۔‘

بہرحال، عام تاثر یہ ہے کہ اس سمت میں کوئی اہم پیش رفت ضرور ہوگی لیکن اخباری اطلاعات کے مطابق دفاع کے شعبے میں دو اہم معاہدے اب کھٹائی میں پڑ گئے ہیں۔ انگریزی روزنامے انڈین ایکسپریس کے مطابق ان میں سے ایک معاہدے کے تحت ایک دوسرے کے فوجی ٹھکانوں کو غیر فوجی مقاصد کے لیے استعمال کرنے کی تجویز تھی، لیکن ہندوستانی بحریہ، فضائیہ اور خود وزارت دفاع کو ان مجوزہ معاہدوں کے بارے میں تحفظات ہیں۔

بہرحال، امریکہ کے پارلیمانی انتخابات میں ڈیموکریٹ پارٹی کی شکست کی تصویر اب واضح ہونا شروع ہوگئی ہے اور مبصرین کے مطابق چونکہ ان کی شکست بنیادی طور پر امریکی معیشت کی بدحالی کی وجہ سے ہوئی ہے، لہذا صدر اوباما اب اپنے دورے میں اقتصادی معاملات پر اور زیادہ توجہ مرکوز کرنے کی کوشش کریں گے۔

جتنے وہ امریکہ میں روزگار کے مواقع پیدا کرنے میں کامیاب ہوں گے اتنا ہی ان کے لیے دو سال بعد اپنی نوکری بچانا آسان ہوگا۔

اسی بارے میں