اوباما کی آمد، ماؤنواز مظاہرے کریں گے

کشن جی
Image caption ماؤنوازوں کے مطابق امریکہ سے سمجھوتہ سامراج کے آگے جھکنا ہے

بھارت میں ماؤ نواز باغیوں نے امریکی صدر براک اوباما کے دورہ کے خلاف آٹھ نومبر کو ملک گیر سطح پر بند کا اعلان کیا ہے۔

امریکی صدر براک اوباما چھ نومبر کو بھارت کے تین روزہ دورہ پر بھارت کے شہر ممبئی پہنچ رہے ہیں۔

یہ اعلان کالعدم تنظیم کے سرکردہ رہنما کشن جی نے اپنے ایک بیان میں کیا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ بھارت کے وزیر اعظم منموہن سنگھ اور اور کانگریس کی صدر سونیا گاندھی بھارت کو سامراجی طاقتوں کے ہاتھ بیچ رہے ہیں۔

ماؤنواز رہنما کشن جی نے کہا کہ صدر اوباما کا بھارت کا یہ دورہ سامراجی طاقتوں کے سامنے بھارت کو بیچنے کی ایک کڑی ہے۔

ماؤنواز نظریات کی حامی ایک سیاسی جماعت بھارتی کمیونسٹ پارٹی (ماؤنواز) نے بھی اوباما کے بھارتی دورہ کے خلاف احتجاج کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔

پارٹی نے اپنے کارکنان سے کہا ہے کہ وہ جگہ جگہ اپنے اپنے طریقوں سے اوباما کے خلاف احتجاج کریں اور ’اوباما واپس جاؤ‘ کا نعرہ لگائیں۔

بھارت میں بایاں بازو کی جماعتیں امریکہ کی سامراجی نظریات اور معاشی پالیسیز کی سخت مخالف سمجھی جاتی ہیں۔

اس سے قبل جب سابق امریکی صدر جارج بش نے بھارت کا دورہ کیا تھا تو بھارت کے بائیں بازو کے محاذ نے متحدہ طور پر اس کی مخالفت کی تھی۔

لیکن اس بار بائیں بازو کی سیاسی جماعتوں نے صدر اوباما کے دورہ کی مخالفت نا کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ مارکسی کمیونسٹ پارٹی کے جنرل سیکریٹری پرکاش کرات نے ایک بیان میں کہا تھا کہ ان کی جماعت امریکہ کی پالیسیز کی مخالفت کرتی ہے شخصیات کی نہیں اور اوباما کے دورہ کی مخالفت نہیں کی جائیگي۔

اسی بارے میں