اوبامہ کا دورہ کئی مشکلات کے ساتھ

Image caption لوگ سمندر میں چلنے والی ان بوٹس میں سمندر کا لطف اٹھاتے ہیں

امریکی صدر باراک اوباما کی ممبئی آمد سینکڑوں غریبوں کی روزی روٹی چھینے کی وجہ اور مایوسی تو کچھ امراء کے لیے بھی مشکلات کا سبب بنی ہے۔

امریکی صدر چھ نومبر کو ممبئی کے ساحل سمندر گیٹ وے آف انڈیا کے پاس بنے تاریخی تاج ہوٹل میں قیام کریں گے۔ ان کی حفاظت کے پیش نظر یہ علاقہ پوری طرح پولیس چھاؤنی میں تبدیل ہو چکا ہے۔ گیٹ وے آف انڈیا سیاحوں میں بہت مقبول ہے اس لیے یہاں روزانہ ہزاروں افراد تفریح کی خاطر آتے ہیں۔ سیاحوں کے آنے کی وجہ سے یہاں کمرشل فوٹوگرافرز کی بڑی تعداد ہے جو پیسہ لے کر یہاں آنے والوں کی تصاویر کھینچتے ہیں۔ پھیری والے ہیں جو لوگوں کے کھانے پینے کا سامان فروخت کرتے ہیں۔

سینکڑوں افراد روزانہ یہاں سمندر میں چلنے والی بوٹس میں سفر کے ذریعہ سمندر کا لطف اٹھاتے ہیں تو درجنوں ایسے بھی ہیں جو کوکن کے ساحل پر بنے علی باغ اور مانڈوہ کا سفر زمینی راستے کے بجائے بوٹ کے ذریعہ کرتے ہیں۔ لیکن اب یہ سب تین دنوں تک یہاں نظر نہیں آئیں گے کیونکہ یہاں سب کا داخلہ بند کر دیا گیا ہے۔

Image caption بوٹ سروس تین دن کے لیے بند رہے گی

آسوتوش ٹھاکر ممبئی کی لوکل ٹرین چرچ گیٹ سٹیشن سے روزانہ تفریح کے لیے آنے والوں کو صرف دس روپے میں گیٹ وے آف انڈیا پہنچاتے ہیں لیکن اب وہ بھی تین دن کام نہیں کر سکتے۔ ٹریفک پولیس نے انہیں تین دنوں کے لیے کاروبار بند کرنے کے لیے کہا ہے۔ وہ کہتے ہیں ’ کیا کریں تہوار کا موقع ہے امید تھی کچھ کما لیں گے لیکن اب نہیں ہو سکتا‘۔

وکرم سنگھ کی گیٹ وے پر ٹریول ایجنسی ہے۔ ان کے یہاں سے بوٹ ایلیفینٹا کے غار، علی باغ اور مانڈوہ جاتی ہے۔ اس کے علاوہ یہاں سے ممبئی کے مختلف مقامات کی سیر کے لیے بھی بسیں جاتی ہیں لیکن انہیں بھی تین دنوں تک کاروبار بند رکھنا ہے۔ سنگھ کہتے ہیں ’پورا سال ان تین دنوں کا انتظار رہتا ہے لیکن کیا کریں ہماری کون سنے گا‘۔

دیوالی ہندوؤں کا بڑا تہوار ہے۔ اس دوران یہاں سکول میں چھٹیاں ہوتی ہیں اور مقامی لوگوں کے علاوہ ہندوستان کی دیگر ریاستوں سے لوگ تفریح کے لیے ممبئی آتے ہیں اور گیٹ وے آف انڈیا ان کے لیے اہم جگہ ہے۔ اس وجہ سے یہاں کے پھیری والوں سے لے کر بوٹ سروس اور فوٹوگرافرز پورا سال ان دنوں کا انتظار کرتے ہیں۔

Image caption منی بھون کے باہر پولیس کا پہرا

اوباما کی آمد سے صرف غریب ہی نہیں منی بھون کے علاقے کے امراء بھی کچھ کم مشکل میں نہیں ہیں۔ منی بھون کے اطراف کا علاقہ بھی پولیس چھاؤنی میں تبدیل ہو چکا ہے۔ حفاظتی انتظامات کے تحت منی بھون لوگوں کے لیے بند کر دیا گیا ہے۔ اس کے اطراف شامیانہ بنا دیا گیا ہے تاکہ لوگ اپنی عمارتوں سے صدر کو نہ دیکھ سکیں۔ لیکن سب سے بڑی مشکل یہ ہے کہ وہ اب اپنی گاڑیاں بلڈنگ کے باہر پارک نہیں کر سکیں گے۔ ان کی کاریں اب ان کے گھروں سے چند کلومیٹر دور پارک کی جائیں گی۔

وشوا ولا عمارت کے واچ مین ونائیک کے مطابق پہلے پولیس نے سوسائٹی کے لوگوں کے نام لکھے، ان کے بارے میں مکمل تفتیش کی اور یہ بھی سوال کیا کہ ان کے یہاں کون ملازمت کرتا ہے۔

اوباما کے آنے سے ہندوستان کی اقتصادی پالیسی پر کیا اثر ہو گا؟ دونوں ممالک کے تعلقات کتنے مستحکم ہوں گے اس سے ان غریبوں کو کچھ مطلب نہیں ہے۔ وہ فوٹوگرافرز اور وہ پھیری والے جن کے گھروں میں روز کی آمدنی سے چولہا جلتا ہے ان کے لیے یہ دیوالی روشنیوں کے بجائے سیاہ دیوالی بن کر آئی ہے۔

اسی بارے میں