اوباما کے دورہ ممبئی کی علامتی اہمیت

اوباما
Image caption ممبئی میں امریکی صدر کی آمد سے قبل ہی گہما گہمی کا ماحول ہے

امریکہ کے صدر باراک اوباما سنیچر کے روز بھارت پہنج رہے ہیں۔ انہوں نے اپنے دورے کا آغاز ممبئی سے کیا ہے جس کی علامتی طور پر بڑی اہمیت ہے۔

صدر اوباما دوپہر تقریـبا ایک بجے ممبئی کے بین الا قوامی ہوائی اڈے پر پہنچیں گے اور وہاں سے وہ ایک ہیلی کاپٹر کے ذریعے تاج ہوٹل جائیں گے۔

ان کے`دورے کا باقاعدہ آغاز محض نصف گھنٹے بعد تاج ہوٹل میں ممبئی حملے کے مہلوکین کی یاد میں ایک جلسے سے ہوگا۔

26 نومبر 2008 کو ممبئی پر حملے کے بعد بھارت اور پاکستان کے تعلقات معمول پر نہیں آ سکے ہیں۔ دوسری جانب دہشتگردی کے خلاف جنگ میں پاکستان امریکہ کا سب سے بڑا حلیف ہے۔

صدر اوباما ممبئی کے اس جلسے سے اپنے خطاب میں نہ صرف یہ بتانے کی کوشش کریں گے کہ وہ دہشت گردی کے سوال پر ہندوستان کے ساتھ ہیں بلکہ اس کے موقف کی بھی حمایت کرتے ہیں۔ وہ یہاں یہ کہہ کر کہ ممبئی حملوں کے مرتکبین کو کیفر کردار تک پہنچایا جائےگا براہ راست یا بالواسطہ طور پر پاکستان کی قیادت کو بھی وارننگ دے سکتے ہیں۔ اس سے یہاں بھارت کی قیادت کی انا کو بھی راحت ملے گی۔

صدر کی دوسری اہم مصروفیت ممبئی کے منی بھون میں واقع گاندھی میوزیم کا دورہ ہے۔ صدر اوباما امریکہ کے دیگر شہری حقوق کے علمبرداروں کی طرح گاندھی کے عدم تشدد کے فلسفے سے متاثر رہے ہیں۔

منی بھون جانا صرف ان کے ذاتی نظریات کا ہی عکاس نہیں بلکہ وہ یہ پیغام بھی دینے کی کوشش کر رہے ہیں کہ گاندھی کا فلسفہء عدم تشدد اور وسیع تر طریقہء کار آج بھی پہلے ہی کی طرح افادیت رکھتا ہے۔ یہ الگ بات ہے کہ ان کا ملک اس وقت افغانستان اور عراق میں بد ترین تشدد کے جال میں الجھا ہوا ہے ۔

Image caption امریکی صدر تاجروں کے وفد کو ممبئی میں خطاب کریں گے

ممبئی کو بھارت کا تجارتی دارالحکومت کہا جاتا ہے۔ بھارت میں یہ بیشتر کثیر ملکی اور ملکی کمپنیوں کا صدر مقام ہے۔ اسی کی مناسبت سے بھارت امریکہ بزنس کونسل نے ملک کے صنعت کاروں سے صدر کے خطاب کا اہتمام ممبئی میں ہی کیا ہے۔

صدر اوباما تقریبا ڈھائی سو تجارتی نمائندوں کے ساتھ بھارت کے دورے پر آرہے ہیں اور اس دورے کا سارا فوکس اقتصادیات پر ہی مرکوز ہو ہوگا۔ امریکہ بھارت کا سب سے بڑا تجارتی پارٹنر رہا ہے اور دونوں ملکوں کے درمیان باہمی تجارت کا حجم اب ساٹھ بلین ڈالر تک پہنج رہا ہے۔

صدر اوباما اتوار کے روز صبح ایک اسکول کے بچوں کے ساتھ دیوالی منائیں گے۔ یہ تہوار بدی کے خلاف نیکی کی جیت کے طور پر منایا جاتا ہے۔ بعد میں وہ شہر کے ایک باوقار کالج سنٹ زیویئرز کے طلباء سے بات چیت کریں گے۔ یہ سیشن بھی کافی دلچسپ ہو گا کیوں کہ اس میں ہر نوعیت کے صرف سیاسی سوالات پی نہیں ذاتی نوعیت کے سوالات اور خیالات پر بھی بات چیت ہوتی ہے ۔

صدر اوباما اتوار کے روز دوپہر میں دلی کے لیے روانہ ہونگے جہاں اصل بات چیت ہو نی ہے لیکن اس کی بنیاد اور خاکہ وہ وہاں پہنچنے سے پہلے ممبئی سے ہی تیار کر چکے ہوں گے۔

اسی بارے میں